Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
27 - 412
ہمدردو نیک عورت نے وہ لقمہ سائل کو کھلادیا ۔ کچھ عرصہ بعد وہی عورت اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ کہیں سفر پر جارہی تھی کہ راستے میں ایک شیر اس کا بچہ چھین کر لے گیا۔ ابھی شیر تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوااور شیر کی طرف بڑھا ، پھر شیر کے دونوں جبڑے پکڑ کے پھاڑ ڈالے اور بچہ ا س کے منہ سے نکال کر عورت کے حوالے کر تے ہوئے کہا :'' لقمے کے بدلے لقمہ۔ '' یعنی تو نے جو ایک لقمہ سائل کو کھلایا تھا اس کی بر کت سے تیرا بچہ شیر کا لقمہ بننے سے بچ گیا ۔''

    حضرتِ سیِّدُناعِکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ایک عورت کے منہ میں لقمہ تھا اتنے میں سائل نے صدالگائی اس نے وہ لقمہ سائل کو کھلادیا۔ کچھ عرصہ بعد اس کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی ، جب وہ کچھ بڑا ہوا تو اسے بھیڑیا اٹھا کر لے گیا عورت اس بھیڑیئے کے پیچھے بھاگتی ہوئی پکار رہی تھی '' میرا بیٹا ، میرا بیٹا'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک فرشتے کو حکم دیا کہ بھیڑیئے سے بچہ چھین لو (اور اس کی ماں کے حوالے کردو)اور اس سے کہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ لقمہ لقمے کے بدلے ہے۔''
    (المجالسۃ وجواہر العلم،الجزء السادس والعشرون،الحدیث۳۶۲۲، ج۳،ص۲۷۷)
 (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر217 :            وعدہ نبھانے کی انوکھی مثال
    اِسحاق بن ابراہیم مَوْصِلی کے والد سے منقول ہے:'' ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید اور جَعْفَر بن یحیی بَرْمَکِی حج کے لئے روانہ ہوئے ،میں بھی ساتھ تھا۔ جب ہم مدینہ منورہ
زَادَھَا اللہُ شَرْفًا وَّتَعْظِیْمًا
پہنچے تو جَعْفَربن یحیی نے مجھ سے کہا: ''کیا تم میرے لئے کوئی ایسی لونڈی تلاش کر سکتے ہو جو حسن وجمال اور ذہانت میں بے مثال ،نغمہ گنگنانے میں باکمال اور انتہائی باادب ہو۔'' میں نے کہا:'' کوشش کرتا ہوں کہ ایسی لونڈی کہیں مل جائے۔'' چنانچہ، میں ایسی صفات کی حامل لونڈی کی تلاش میں لگ گیا۔ بالآخر مجھے معلوم ہوا کہ فلاں شخص کے پاس ایسی لونڈی مل سکتی ہے۔

     میں مطلوبہ شخص کے پاس پہنچا ا وراپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ اس نے ایک لو نڈی مجھے دکھائی تو میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنی خوبصورت وباادب لونڈی میں نے آج تک نہ دیکھی تھی۔اس کے چہرے کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ جب اس نے نغمہ گنگنایا توآواز بڑی دلکش وسریلی تھی۔ مجھے وہ بہت پسند آئی میں نے اس کے مالک سے کہا :''بتاؤ !اس کی کیا
Flag Counter