ہمارا گمشدہ سامان ہمیں لوٹا دے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابھی اپنی مناجات ختم بھی نہ کر پائے تھے کہ یکایک کسی منادی کی ندا سنائی دی: '' کیا کسی کا تھیلا گم ہوا ہے ؟''میں نے سناتواپنا تھیلا لے لیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''ہمارا رحیم وکریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ ہمیں ایسی حالت میں نہیں چھوڑے گاکہ ہم پانی سے محروم رہيں،وہ ہمیں پیاسانہیں رکھے گا۔''ہم کھاناوغیرہ کھاکراپنی منزل کی طرف چل دیئے۔راستے میں ایک ایساشخص ملاکہ جس نے عام سا باریک لباس پہناہواتھا۔انتہائی گرم لباس میں بھی ہم پر کپکپاہٹ طاری تھی مگراس کے جسم پرپسینہ نمودارہورہاتھا۔ہم بڑے حیران ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا: ''اگر تم قبول کرو تو ہم تمہیں گرم لباس اور چادریں پیش کریں؟''
اس نے کہا: ''اے دَارَانِی! سردی اور گرمی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق ہیں ۔ اگر وہ خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ انہیں حکم دے گا کہ وہ مجھ پر چھا جائیں تو وہ ضرور مجھ تک پہنچ کر رہیں گی اور اگر حکم فرمائے گا کہ وہ مجھے چھوڑ دیں تو ضرور مجھ سے دور رہیں گی۔''اے ابو سلیمان دَارَانِی ! تم توزاہد مشہور ہو،پھربھی سردی سے خوفزدہ ہو؟ میں اس جنگل میں تقریباً تیس (30)سال سے رہ رہا ہوں، اَلْحَمْدُ ِللہ عَزَّوَجَلَّ ! نہ تو مجھ پر کبھی لرزہ طاری ہوا اورنہ ہی میں کبھی سردی کی شدت سے کانپا۔ میرا پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سردیوں میں مجھے اپنی محبت کا گرم اور گرمیوں میں اپنی محبت کی ٹھنڈک کا سردلباس پہناتا ہے۔'' پھر وہ یہ کہتے ہوئے واپس پلٹ گیا:'' اے ابوسلیمان دَارَانِی! تم روتے اور چیختے بھی ہو اور آرام دہ چیزوں سے سکون بھی حاصل کرتے ہو!،تمہارا بھی بڑا عجیب معاملہ ہے۔''
اس اجنبی عارف کی یہ بات سُن کر حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دَارَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:'' اس شخص کے علاوہ مجھے کسی نے نہیں پہچانا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)