Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
210 - 412
علیہ نے فرمایا:'' مسجد کے خادم سے کہو کہ ہماری اُجرت ہمیں دے دے ۔'' جاگیردار نے مسجد کے خادم سے کہا:'' ان کی اُجرت ان کے حوالے کردو۔'' جب خادم دینار دینے لگا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' یہ دینار(یعنی سونے کی اشرفی)میرے رفیق کو دے دو کہ اس نے حجام کو اٹھارہ(18)درہم(یعنی چاندی کے سکے)دیئے تھے۔''چنانچہ، خادم نے وہ دینا رنوجوان کو دے دیا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیسے خوددار اورباکرامت ہوا کرتے تھے ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ اس نوجوان کے دل میں جب یہ بات آئی کہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے حجام کو اتنی رقم کیوں دلوائی؟توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کوچاندی کے اٹھارہ سکّوں کے بدلے سونے کی اشرفی عطا فرمادی تا کہ اسے اپنے مال کامَلال نہ ہو۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیشہ حلال رزق کماتے، خود کم کھاتے لیکن دوسروں کی بہت امداد فرماتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی اتنارزقِ حلال عطا فرمائے کہ حرام کی طرف ہماری نظر ہی نہ اُٹھے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر:352     حضرت اِبراہیم بن اَ دْ ہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کاجذ بۂ خیرخوا ہی
    حضرتِ سیِّدُناشَقِیق بن اِبراہیم علیہ رحمۃ اللہ الکریم سے منقول ہے کہ'' ایک مرتبہ ہم حضرتِ سیِّدُنا اِبراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی محفل میں حاضر تھے، اتنے میں آپ کے معتقدین میں سے ایک شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلام کئے بغیر ہمارے قریب سے گزر گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حاضر ین سے پوچھا :''کیا یہ فلاں شخص نہیں؟'' عرض کی گئی:''جی ہاں۔'' فرمایا:'' جاؤ! اس سے پوچھو: ''آج تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا؟ کیا تم ناراض ہو ؟'' جب اسے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ پیغام ملا توکہا :'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ابھی ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور ہمارے پاس پھوٹی کَوڑی بھی نہیں (یعنی کچھ بھی نہیں)، اب میں کھانے کی تلاش میں نکلا ہوں، میں اتنا پریشان ہوں کہ مجھے کچھ ہوش ہی نہیں۔ ''جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کو اس کی یہ حالت بتائی گئی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تڑپ اٹھے اور''اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن''پڑھ کر کہا :'' ہائے افسوس! ہم اپنے رفیق کے حال سے غافل رہے اور بات اتنی بڑھ گئی۔ ہائے! اسے اتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔'' پھر آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا:'' جاؤ! فلاں باغ کے مالک کے پاس جاکر دو دینار قرض حاصل کر واور بازار جاکر ایک دینار کی اشیاءِ خورد ونوش (یعنی کھانے پینے کا سامان) خرید کر سارا سامان اور بقیہ ایک دنیار ہمارے اس پریشان حال رفیق کے گھر دے آؤ ۔''
Flag Counter