پروردگار عَزَّوَجَلَّ!میرے نزدیک فقر کو ایسا محبوب بنادے کہ دنیا میں مجھے اس سے زیادہ محبوب کوئی شئے نہ ہو۔ اور دوسری یہ تھی کہ مجھے ایسا نہ بنانا کہ میری کوئی رات اس حالت میں گزرے کہ صبح کے لئے کوئی چیز ذخیرہ کر رکھی ہو۔'' اور پھر ایسا ہی ہوا کئی سال گزر گئے لیکن میں نے کوئی چیز اپنے پاس ذخیر ہ کر کے نہ رکھی ۔ اور تیسری دعا یہ تھی: ''اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جب تو اپنے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو اپنے دیدار کی دولتِ عظمیٰ سے مشرف فرمائے تو مجھے بھی ان اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں شامل فرمالینا ۔''
مجھے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اُمید ہے کہ میری ان دعاؤں کو ضرور پورا فرمائے گا کیونکہ ان پر ایک ولئ کا مل نے آمین کہا تھا۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ بے نیاز ہے وہ اپنے اولیاء کرام کو جس حال میں چاہے رکھے ، چاہے تو ایسا مشہور فرمائے کہ چہار دانگ ِ عالَم میں ان کی ولایت کے ڈَنکے بجنے لگیں اور چاہے تو ایسا پوشیدہ رکھے کہ بالکل قریب رہنے والے بھی نہ پہچان سکیں،بلکہ عام لوگ ان کو حقارت بھری نظر وں سے دیکھیں اور اپنے ساتھ رکھنا بھی پسند نہ کریں ۔ وہ خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ اپنے نیک بندوں کو جس حال میں بھی رکھے وہ اس سے خوش رہتے ہیں ،کبھی بھی حرفِ شکایت لب پر نہیں لاتے ۔ہمیں چاہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ سمجھیں، نہیں معلوم، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کس کا کیا مقام ہو ، بعض پر اگندہ حال ، بکھرے بالوں والے بظاہر کچھ بھی نظر نہ آنے والے اس مقام پر فائز ہوتے ہیں کہ اللہ ربُّ العزَّت اُن کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو رد نہیں فرماتا۔
؎ بکھرے بال، آزُرْدَہ صورت، ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت بدرؔ مگر یہ شان ہے اُن کی، بات نہ ٹالے ربُّ العزَّت
ان کے خالی ہاتھوں میں دین ودنیا کی دولت ہوتی ہے اور جو اُن سے عقیدت رکھتا ہے اسے بہت کچھ مل جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ گڈری کے لعل ہوتے ہیں۔)
؎ نہ پوچھ! اِن خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو یدِ بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں