Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
158 - 412
سے تائب ہوتا ہے تو اس سے خوش ہوجاتا ہے ۔ یہ درس بھی ملاکہ گناہ کر نے والااگرچہ لاکھ پردوں میں چھپ کرگناہ کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ تو دیکھ ہی رہا ہے ۔ لہٰذا انسان کو ہر وقت رب عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا چاہے اور گناہوں سے کنارہ کَشی اختیار کرتے ہوئے اعمالِ صالحہ کو اپنا وَطِیرہ بنانا چاہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں گناہوں سے بچاکر اعمالِ صالحہ کی تو فیق عطا فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))
حکایت نمبر317:          حضرتِ سیِّدُنا ابوجَعْفَرمجذوم علیہ رحمۃ اللہ القَیُّوْم
     حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسین دَرَّاج علیہ رحمۃ اللہ الوہاب سے منقول ہے کہ'' ایک مرتبہ مَیں حاجیوں کے ایک قافلے کے ساتھ سوئے حرم روانہ ہوا۔جہاں قافلہ ٹھہرتامجھے بھی ٹھہرنا پڑتا اور دیگر معاملات میں بھی ان کے ساتھ کام وغیرہ کرنا پڑتا۔اس طر ح اس سال میرا تمام سفر ان قافلے والوں کے ساتھ رہا اور حج سے واپسی بھی انہیں کے ساتھ ہوئی۔ پھر ایک سال میں اکیلا ہی سفرِ حج پر روانہ ہو گیا اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا ''قادسیہ'' پہنچا ۔میں ایک مسجد میں گیا تو محراب میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے جسم کو کوڑھ کے مرض نے بہت زیادہ متاثر کر رکھا تھا ۔

    اس نے مجھے دیکھ کر سلام کیا اور کہا:'' اے ابوالحسین! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے ؟'' مجھے اسے دیکھ کر بہت زیادہ کراہت محسوس ہو رہی تھی ،اس بات پر غصہ بھی آیا کہ اس نے مجھے مخاطب کیوں کیا؟ میں نے بڑی بے رُخی سے کہا:'' ہاں! میرا حج کا ارادہ ہے۔'' کہا:'' پھر مجھے بھی اپنا رفیق بنالیں۔'' میں نے دل میں کہا:''یہ کیسی مصیبت آگئی میں تو تندرست لوگو ں کی رفاقت پسند نہیں کرتا، وہاں سے بھاگا ہوں تو اس کوڑھی وبیمار شخص سے واسطہ پڑگیا ، میں نے کہا:'' میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ۔ '' اس نے کہا: ''مہربانی کرو، مجھے اپنے ساتھ رکھ لو۔'' میں نے کہا: '' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں ہر گز تجھے اپنا رفیق نہ بناؤں گا۔'' اس نے کہا:''اے ابو الحسین! اللہ عَزَّوَجَلَّ ناتوانوں اور کمزوروں کو ایسا نواز تا ہے کہ طاقتور بھی تعجب کرنے لگتے ہیں۔''

    میں نے کہا:'' تمہاری بات ٹھیک ہے ،لیکن میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔'' عصر کی نماز پڑھ کر میں سفر پر روانہ ہوا ، صبح ایک بستی میں پہنچا تو اسی شخص سے ملاقات ہوئی اس نے مجھے سلام کیا اور وہی الفاظ کہے ، '' اللہ عَزَّوَجَلَّ ضعیف وناتواں بندوں کو ایسا نواز تا ہے کہ طاقتور بھی تعجب کرنے لگتے ہیں ۔'' اس کی یہ بات سن کر میں بڑا حیران ہو ا مجھے اس کو ڑھی شخص کے بارے میں عجیب وغریب خیال آنے لگے ، میں وہاں سے اگلی منزل کی طرف روانہ ہوا۔ جب مقامِ ''قَرْعَاء'' پہنچ کر نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہواتو اسے وہاں بیٹھا دیکھا ،اس نے کہا:'' اے ابو الحسین ! اللہ عَزَّوَجَلَّ ضعیف ناتو اں بندوں کو ایسا نواز تاہے کہ
Flag Counter