| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
سیاسی تحریک ''دعوتِ اسلامی'' اسلا می بھائیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی بہنوں کی اصلاح کے لئے بھی سنتوں بھرا پاکیزہ ماحول مہیا کر رہی ہے۔ اس ماحول میں آکر نہ جانے کتنے گناہ گاروں کو توبہ کی توفیق ملی اور اب وہ صلوٰۃ وسنت کے پابند ہو کر ایک باعمل باکردار مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کو دن دُگنی رات چگنی ترقی عطافرمائے ۔ اورتمام علماء اہلسنت اور بالخصوص امیرِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطا رؔ قادری رضوی دامت بر کاتہم العالیہ کا سایۂ شفقت قائم ودائم رکھے کہ گلشنِ دعوتِ اسلامی کی بہاریں انہیں کی انتھک محنت وکوشش کا ثمر ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم) ؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !
حکایت نمبر286: عظیم باپ کی عظیم بیٹیاں
حضرت مُحَمَّد بن سُوَیْد طَحَّان سے منقول ہے کہ''جس دن علم وعمل کے پیکر، مردِ قلندر، امامِ جلیل امام احمد بن حَنْبَل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خَلقِ قرآن کے مسئلہ پر نہایت بے دردی سے کوڑے مارے جارہے تھے اور آپ کوہِ استقامت بن کر ظلم وستم کی خطرناک آندھیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اس دن ہم حضرتِ سیِّدُناعاصم بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس تھے ۔ ابن عبید قاسم بن سلام ، ابراہیم بن ابولَیْث کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ وہا ں موجود تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگو ں سے فرمایا: '' کیا تم میں کوئی ایسا مردِ مجاہد ہے جو میرے ساتھ ظالم حاکم کے پاس چلے، تا کہ ہم اس سے پوچھیں کہ وہ امامِ جلیل علیہ رحمۃ اللہ الوکیل پر ظلم وستم کیوں کر رہا ہے؟'' حضرتِ سیِّدُناعاصم بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ساتھ چلنے کے لئے کوئی بھی تیار نہ ہوا۔ ظالم حاکم کے پاس جانے سے سب گریز کر رہے تھے ۔ ابراہیم بن ابو لَیْث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور کہا:'' اے ابو الحسن! میں آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں ۔''
ان کایہ جذبہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُناعاصم بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حیران ہوتے ہوئے کہا: اے نوجوان! کیا تم میرے ساتھ چلوگے ، اچھی طرح سوچ لو کہ ہم کس کے پاس جارہے ہیں؟'' کہا ـ:'' اے ابو الحسن! میں نے خوب سوچ لیا ہے، میں ضرور بالضرور آپ کے ساتھ اس ظالم حاکم کے پاس جاؤں گا ۔ مجھے تھوڑی سے مہلت دیجئے تا کہ گھر جاکر اپنی بیٹیوں کو وصیت اور انہیں دین پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کر آؤ ں۔''یہ کہہ کر وہ اپنے گھر کی طر ف چلے گئے ، ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ اپنے لئے کفن وغیرہ کا