Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
94 - 410
     حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میری والدہ نے مجھ سے فرمایا:'' اے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم جب تک صبح اس بچے کو رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ بابر کت میں نہ لے جاؤ اس وقت تک کوئی بھی اسے دو دھ نہ پلائے۔'' چنانچہ میں صبح بچے کو لے کر بارگاہِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضر ہوگیا، اس وقت حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغنے والا آلہ تھا ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نظرِ عنایت جب مجھے پر پڑی تو استفسارفرمایا:'' شاید! اُم سلیم کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے؟'' میں نے کہا:''جی ہاں۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ لوہے کا آلہ رکھ دیا۔ میں بچے کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس لے آیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اپنی آغو شِ رحمت میں لے لیا اور مدینہ منورہ کی ''عجوہ '' کھجو ر منگوائی ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے دہن اقدس میں لے کر چبائی، جب وہ خوب نرم ہوگئی تو بچے کے منہ میں ڈال دی، بچے نے اسے چوسنا شرو ع کردیا۔ یہ دیکھ کر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس بچے کے چہر ے پر اپنا دست شفقت پھیرا اوراس بچے کا نام'' عبداللہ ''رکھا۔
(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی طلحۃ الأنصاری، الحدیث:۱۰۷(۲۱۴۴)،ص۱۱۰۹)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر33:     نعمت پرغمگین اورمصیبت پرخوش ہونے والی عورت
    حضرت سیدنا ابن یسار مسلم علیہ رحمۃ اللہ المنعم فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ میں تجارت کی غر ض سے ''بحرین ''کی طر ف گیا، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک گھر کی طرف بہت لوگوں کاآناجاناہے، میں بھی اس طرف چل دیا۔وہاں جاکردیکھاکہ ایک عورت نہایت ا فسردہ اورغمگین پھٹے پرانے کپڑے پہنے مصلے پر بیٹھی ہے اور اس کے ارد گرد غلاموں اورلونڈیوں کی کثرت ہے، اس کے کئی بیٹے اوربیٹیاں ہیں، تجارت کابہت سارا سازو سامان اس کی ملکیت میں ہے ، خریداروں کا ہجوم لگاہوا ہے،وہ عورت ہر طر ح کی نعمتوں کے باوجود نہایت ہی غمگین تھی نہ کسی سے بات کرتی ، نہ ہی ہنستی۔

    میں وہاں سے واپس لوٹ آیا اور اپنے کاموں سے فا رغ ہونے کے بعد دوبارہ اسی گھر کی طر ف چل دیا۔ وہاں جاکر میں نے اس عورت کو سلام کیا۔ اس نے جواب دیا اور کہنے لگی:'' اگر کبھی دوبارہ یہاں آنا ہواور کوئی کام ہو تو ہمارے پاس ضرور آنا ،
Flag Counter