حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میری والدہ نے مجھ سے فرمایا:'' اے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم جب تک صبح اس بچے کو رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ بابر کت میں نہ لے جاؤ اس وقت تک کوئی بھی اسے دو دھ نہ پلائے۔'' چنانچہ میں صبح بچے کو لے کر بارگاہِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضر ہوگیا، اس وقت حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغنے والا آلہ تھا ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نظرِ عنایت جب مجھے پر پڑی تو استفسارفرمایا:'' شاید! اُم سلیم کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے؟'' میں نے کہا:''جی ہاں۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ لوہے کا آلہ رکھ دیا۔ میں بچے کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس لے آیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اپنی آغو شِ رحمت میں لے لیا اور مدینہ منورہ کی ''عجوہ '' کھجو ر منگوائی ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے دہن اقدس میں لے کر چبائی، جب وہ خوب نرم ہوگئی تو بچے کے منہ میں ڈال دی، بچے نے اسے چوسنا شرو ع کردیا۔ یہ دیکھ کر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس بچے کے چہر ے پر اپنا دست شفقت پھیرا اوراس بچے کا نام'' عبداللہ ''رکھا۔