تھا کہ لگتا تھا کہ پہاڑ بھی اس کی دھاڑ سے پھٹ جائیں گے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر نماز میں مشغول ہوگئے ،طلوعِ فجر سے کچھ دیر قبل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھ گئے اور ایسے پاکیزہ الفاظ میں اللہ ربُّ العزَّت کی حمد کی کہ میں نے کبھی حمدکے ایسے کلمات نہ سنے تھے ، مگر جس کو اللہ عزوجل چاہے تو فیق عطا فرمائے ،وہ جس پر چاہے اپنا خاص کرم کرے ۔
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور یوں دعا کرنے لگے :'' اے میرے پروردگارعزوجل! میں تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا، میں اس قابل کہا ں کہ تجھ سے جنت طلب کروں۔''
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس لشکر کی طر ف لوٹ آئے ۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حال میں صبح کی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالکل تر و تازہ تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ گویا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری رات بستر پر گزاری ہو ، اور مجھ پر جو تھکاوٹ اور سستی طاری تھی اسے اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے ۔
پھر لشکر نے دشمن کی طر ف پیش قدمی کی اور جب دشمن کی سرحد کے قریب پہنچے تو امیر لشکر نے اعلان کیا کہ کوئی سوار اپنی سواری پر بھاری سامان نہ چھوڑے، تمام مجاہدین اپنی اپنی سواریاں ہلکی کرلیں۔
اتفاقی بات تھی کہ حضرت سیدنا صلہ بن اشیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خچر سامان سمیت کہیں بھاگ گیا ۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ہوئی توآپ نے نماز پڑھنا شرو ع کردی۔ لوگو ں نے کہا:'' حضور! سارا لشکر جاچکاہے اور آپ ابھی یہیں موجود ہیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اس طر ح بارگاہ خداوندی عزوجل میں عرض گزار ہوئے:''اے میرے پروردگار عزوجل! تجھے تیری عزت وجلال کی قسم! میری سواری مجھے سامان سمیت لوٹا دے۔ ''ابھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سواری سامان سمیت سامنے موجود تھی۔ پھر جب دشمنوں سے جنگ چھڑی اوردعوتِ مبارزت دی گئی تو ہمارے لشکر کی طر ف سے حضرت سیدنا صلہ بن اشیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا ہشام بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ میدانِ جنگ میں اترے اور ایسے جنگی جو ہر دکھائے کہ جس طر ف جاتے دشمنوں کی لاشیں بکھیردیتے،جو دشمن سامنے آتا اسے واصلِ جہنم کر دیتے ، نیز ہ زنی اورشمشیر زنی کے ایسے جوہر دکھائے کہ دشمنوں کے پاؤ ں اکھڑ گئے ، ان کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ کہنے لگے : ''جب عرب کے دو شہسواروں نے ہمار ا یہ حال کردیا تو اگر پورا عربی لشکر ہم سے لڑا تو ہمارا کیا انجام ہوگا ،بہتری اسی میں ہے کہ ہم مسلمانوں سے صلح کرلیں ۔چنانچہ انہوں نے ہم سے جزیہ کی شرط پرصلح کرلی اور مسلمانوں کا لشکر فتح یا ب ہو کر واپس پلٹا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)