Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
77 - 410
ان کی وجہ سے انہیں ضرور پہچان لیتا اور تمہیں وہ قبریں ضرور دکھا تا۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اﷲ بن مسعود، الحدیث: ۴۳۱۲، ج۲، ص۶۶ا۔۱۶۷)
 (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر 20:     حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہکے نصیحت آموز فرامین
     حضرت سیدناکمیل بن زیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے جنگل کی طر ف لے گئے ۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ بیٹھ گئے اور ایک آہِ سرد بھر کر فرمایا: ''اے کمیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!یہ دل بر تنوں کی مانند ہیں، ا ن میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ نصیحت قبول کرنے والا ہو۔ لہٰذا میں تجھے جو نصیحتیں کرو ں انہیں اچھی طر ح یاد رکھنا پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے فرمایا :''اے کمیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!لوگ تین طر ح کے ہیں :

(۱) عالم ربانی 

(۲) راہ نجات(یعنی دین ) کے طلب گار

(۳) بیوقوف وکمتر لوگ :جو ہر بلانے والے کی بات پر کان دھریں ، ہر ہواکی طر ف جھک جائیں، علم کے نور سے کبھی منور نہ ہوئے ہوں ، اور نہ ہی کسی مضبو ط شئے کو پناہ گاہ بنایا ہو۔

     اے کمیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! علم مال ودولت سے بہتر ہے کیونکہ علم تیری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی حفاظت تجھے کرنی پڑتی ہے، مال خرچ کر نے سے کم ہوتا ہے جبکہ علم خر چ کرنے سے بڑھتا ہے ،علم حاکم ہے اور مال محکوم ۔

    اے کمیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! عالم کی محبت دین ہے اوراس محبت کی وجہ سے بہت بڑا اجردیاجائے گا۔علم دنیاوی زندگی میں عالم کونیک اعمال کی ترغیب دلاتاہے اوراس کی وفات کے بعداس کابہترین سرمایہ ہے جبکہ مال سے ملنے والی آسائشیں اس مال کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں ۔

    اے کمیل بن زیاد(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! بڑے بڑے مال دار زندہ ہونے کے با وجود مُردوں کی طر ح ہیں، علماء کرام اگرچہ دنیا سے پر دہ کر چکے لیکن جب تک زمانہ باقی ہے تب تک وہ باقی رہیں گے ، ان کی آنکھیں اگر چہ بند ہوگئیں لیکن ان کی عظمت اورشان وشوکت آج بھی دلوں میں زندہ و باقی ہے۔
Flag Counter