| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
حاصل کرتے ہوں پھرجب وہ اونٹ بوڑھا ہوجائے تو اسے ذبح کر لیں، اور اس کا گو شت کھالیں ۔ خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی گفتگو سنی تو مجھ سے کہا :''آؤ! ہم دوبارہ انہیں مال پیش کرتے ہیں، شاید! اب قبول فرما لیں ۔''
جب حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دیکھا کہ ہم دوبارہ آرہے ہیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور جاکر چھت پر بیٹھ گئے ۔''
خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس چھت پر پہنچ گئے، اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گئے۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گفتگو کرنا چاہی مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔
اتنی دیر میں ایک سیاہ فام لونڈی آئی ۔اور کہنے لگی:'' آپ لوگ ساری رات انہیں تنگ کرتے رہے ہیں ،خدارا! اب آپ یہاں سے تشریف لے جائیں،اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ۔''چنانچہ ہم وہاں سے واپس پلٹ آئے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)))حکایت نمبر16: رزق کے خزانوں کا مالک
فضل بن ربیع کا بیان ہے :''میں ایک مرتبہ سفرحج میں خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدکے ساتھ تھا۔ واپسی پرجب ہمارا گزر ''کوفہ'' سے ہوا تودیکھا کہ حضرت سیدنابہلول دانا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جگہ کھڑے ہیں اوربہت بلندآواز سے چیخ رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا:'' خاموش ہو جائیے۔'' خلیفۃ المسلمین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لارہے ہیں۔ یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے۔ پھرجب خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدکی سواری قریب آئی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے زورسے کہا: ''اے امیرالمؤمنین(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ! ذرا میری بات سنئے۔'' خلیفہ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آوازسنی تو رک گئے۔
حضرت سیدنابہلول دانا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے امیرالمؤمنین (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!مجھے'' ایمن بن نایل''رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حدیث سنائی کہ حضرت سیدنا قدامہ بن عبداللہ عامری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''میں نے رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکو''وادیئ منیٰ''میں دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک سادے سے کجاوے میں تشریف فرماتھے اور وہاں نہ مارنا تھا، نہ اِدھر اُدھر ہٹانا تھا اورنہ ہی یہ کہ ایک طرف ہو جاؤ ۔''(جامع الترمذی، ابواب الحج، باب ماجاء فی کراھیۃ طرد الناس...الخ، الحدیث:۹۰۳،ص۱۷۳۷)
؎ تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے ا!