Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
45 - 410
                             وجہ سے تجھے چار سال دودھ پلایا ۔میں تجھے اللہ عزوجل اوراس احسان کا واسطہ دے کر کہتی ہوں جو میں نے تجھ پر کیا کہ تو ہر گز اس چیز کو نہ کھا ناجسے اللہ ربُّ العزَّت نے حرام کیا ہے اور برو زِ قیامت اپنے بھائیوں سے اس حال میں نہ ملنا کہ تو ان میں سے نہ ہو ، جب سعادت مند بیٹے نے ماں کی یہ باتیں سنیں تو کہا :''میں توڈر رہاتھا کہ شاید آپ مجھے خنزیر کا گو شت کھانے پر ابھاریں گیں لیکن اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تم جیسی عظیم ماں عطا فرمائی۔ ''

 پھر وہ عورت اپنے بیٹے کو لے کر بادشاہ کے پاس آئی اور کہا:'' یہ لو، اب یہ وہی کریگا جو میں نے اس سے کہا ہے۔'' بادشاہ بڑا خوش ہو ا اور اس کی طر ف خنزیر کا گوشت بڑھاتے ہوئے کہا:''یہ لو، اس میں سے کچھ کھالو۔''یہ سن کر بہادر نوجوان نے جواب دیا:''خدا عزوجل کی قسم! میں ہر گز اس چیز کو نہیں کھاؤں گا جسے اللہ عزوجل نے حرام کیا ہے۔'' بادشاہ کویہ سن کر بہت غصہ آیا۔ چنانچہ اس ظالم نے اس مرد مجاہد کو بھی شہید کروادیا۔ اسی طرح یہ بھی اپنے بھائیوں سے جا ملا۔ پھر بادشاہ نے اس عظیم عورت سے کہا:''میراخیال ہے کہ مجھے تیرے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا پڑے گا جو تیرے بیٹوں کے ساتھ کیا ہے۔ اے بڑھیا! تیری ہلاکت ہو،تو صرف ایک لقمہ ہی کھالے تومیں تجھے منہ مانگا انعام دو ں گا ، اور جوتو کہے گی میں وہی کرو ں گا، تو صرف ایک لقمہ کھالے، پھر عیش وعشرت سے زندگی گزارنا۔''یہ سن کر اس عظیم ماں نے جواب دیا: ''اے ظالم !تو نے میرے بچوں کو میرے سامنے مار ڈالا،اور اب تو یہ چاہتا ہے کہ میں تیرے کہنے پر اللہ عزوجل کی نافرمانی بھی کرو ں ،اپنے بچو ں کی موت کے بعد مجھے زندگی سے کوئی سرو کار نہیں۔ خدا عزوجل کی قسم! تو جو کچھ کر سکتا ہے کرلے میں کبھی اللہ عزوجل کی حرام کردہ شئے نہیں کھاؤں گی۔ ''یہ سن کر اس سفاک وظالم بادشاہ نے اسے بھی شہیدکر وا دیا۔ اس طرح اس عظیم ماں کی روح بھی اپنے عظیم فرزندوں سے جا ملی۔ (سبحان اللہ عزوجل !ان سب نے ایک ایک کر کے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن اللہ عزوجل کے حکم کی خلاف ورزی نہ کی ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)
    حضرت سیدنااسلم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں:''امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ اکثر رات کے وقت مدینہ منورہ کا دورہ فرماتے تا کہ اگر کسی کو کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کریں ، ایک رات میں بھی ا ن کے ساتھ تھا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلتے چلتے اچانک ایک گھر کے پاس رک گئے، اندرسے ایک عورت کی آواز آ رہی تھی:'' بیٹی دودھ میں تھوڑا ساپانی ملادو ۔''
 حکایت نمبر10:               اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے
Flag Counter