Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
381 - 410
   ؎ یا رسول اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے

             ان شاء اللہ عزوجل دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے

    اُس شامی نوجوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عزم و استِقلال اوراس کی ایمان پر استِقامت مرحبا! ذراغور تو فرمایئے! نگاہوں کے سامنے دو پیارے پیارے بھائی جامِ شہادت نوش کر گئے مگر اس کے پائے ثَبات کو ذرا بھی لغزِش نہیں آئی نہ دھمکیاں ڈرا سکیں نہ ہی قید و بند کی صُعُوبتیں اسے اپنے عزم سے ہٹاسکیں۔ حق و صداقت کا حامی مصیبتوں کی کالی کالی گھٹاؤں سے بالکل نہ گھبرایا۔ طوفانِ بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثَبات میں جُنبش تک نہ ہوئی ۔ خداو مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کا شیدائی دنیا کی آفتوں کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔ بلکہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پہنچنے والی ہر مصیبت کا اس نے خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا، نیز دنیا کے مال اور حُسن وجمال کالالچ بھی اس کے عزائم سے اس کو نہ ہٹا سکا اور اس مردِ غازی نے اسلام کی خاطر ہر طرح کی راحتِ دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی۔

           ؎ یہ غازی یہ تیرے پر اَسرار بندے جنہیں تو نے بَخشاہے ذوقِ خدائی

        ہے ٹھوکر سے دو نِیم صحرا و دریا          سِمَٹ کر پہاڑ ان کی ہیبَت سے رائی

    آخرکار اللہ عزوجل نے رہائی کے بھی خوب اسباب فرمائے ۔وہ رومی لڑکی مسلمان ہو گئی اور دونوں رِشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔''    (حسینی دولہا،ص۲۱تا۲۳)

    (اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل !ہمیں بھی شوقِ شہادت کے جذبے میں اخلاص واستقامت عطافرما۔ دین کی خاطر اپنا تن، من، دَھن سب کچھ قربان کرنے کی عظیم سعادت عطافرما۔ دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہمیں خوب خوب تگ ودو کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اے ہمارے مولیٰ عزوجل !ہمیں بھی دین اسلام پر ثابت قدم رکھ ۔ایمان وعافیت کے ساتھ سرکار مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ،صاحبِ معطّرپسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جلوؤں میں شہادت کی موت عطافرما۔ ہمیں اپنی راہ میں سرکٹانے کی توفیق عطافرما۔ ان عظیم مجاہدوں کے صَدْقے بدنگاہی ، گندی سوچ اورگندے افعال سے ہماری حفاظت فرما۔ سرکار مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جھکی جھکی باحیا آنکھوں کا واسطہ ہمیں بھی شرم وحیا سے ہر وقت نگاہیں نیچی رکھنے کی توفیق عطافرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

          ؎ یاالٰہی عزوجل رنگ لائیں جب میری بے باکیاں 

            ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو