ہی دنوں میں اسے اپنے دامِ محبت میں پھنسا لوں گی۔'' چنانچہ گورنرنے اپنی بیٹی کو اس نوجوان کے پاس بھیج دیا۔وہ حسین دوشیزہ روزانہ اپنے حسن وجمال کا جال ڈال کر اس شرم وحیا کے پیکر عظیم مجاہد نوجوان کو پھنسانا چاہتی لیکن صد ہزار آفرین اس نوجوان کی پاکدامنی اور شرم وحیاء پر! اس نے کبھی بھی نظر اٹھا کر اس فتنے باز حسینہ کو نہ دیکھا جس کی ایک جھلک دیکھنے کو روم کے ہزاروں رومیوں کی نگاہیں ترستی تھیں ۔بس یہ سب دینِ اسلام کا فیضان تھا اوراس نوجوان پر نبی کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نظر کرم تھی کہ جن کی نگاہیں ہر وقت حیا سے جھکی رہتی تھیں۔
؎ نیچی نظروں کی شرم وحیاء پر درود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام
الغرض! اس لڑکی نے اسلام کے اس مجاہد کو بہکانے کی خوب کوشش کی لیکن وہ سارا دن نماز پڑھتا رہتا ۔ اسی طرح پوری رات تلاوت کرتے کرتے اورقیام وسجود میں گزرجاتی ۔ اس نوجوان نے کبھی بھی لڑکی کی طرف نہ دیکھا،بس ہر وقت یا دِالٰہی عزوجل میں مگن رہتا ۔ اسی طرح کافی دن گزرگئے۔مقررہ مدت ختم ہونے والی تھی۔ بادشاہ نے اس گورنر کو بلوایااورپوچھا:'' اس نوجوان کا کیا حال ہے؟ کیااس نے دین اسلام چھوڑ دیا ہے ؟''گورنر نے کہا :'' میں نے اپنی بیٹی کو اسی کام پرلگایا ہوا ہے،میں اس سے معلوم کر لیتاہوں کہ اسے کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ہے ؟''
گورنر اپنی بیٹی کے پاس آیا اورپوچھا :''بیٹی! اس نوجوان کا کیا حال ہے ؟'' لڑکی نے جواب دیا : ''ابّا جان !یہ تو ہر وقت گُم سُم رہتاہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر میں اس کے دوبھائیوں کو ماردیا گیا ہے ،یہ ان کی یاد میں غمگین رہتا ہے اورمیری طرف بالکل متوجّہ نہیں ہوتا ۔اگر ایسا ہوجائے کہ ہمیں اس شہر سے کسی دو سرے شہر میں منتقل کردیا جائے اوربادشاہ سے مزید کچھ دنوں کی مہلت لے لی جائے، نئے شہر میں جانے سے اس نوجوان کا غم کم ہوجائے گا۔،پھر میں اسے ضرور اپنی طرف مائل کرلوں گی۔
اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر وہ بے غیرت گورنر بادشاہ کے پاس گیا اور اسے ساری صورت حال بتا کر مدت میں طوالت اوران دونوں کے لئے کسی دوسرے شہر میں رہائش کے انتظام کا مطالبہ کیا۔ باد شاہ نے دونوں باتیں منظور کرلیں ۔ ان دونوں کو ایک دوسرے شہر میں بھیج دیااو ر کچھ دنوں کی مزیدمہلت دے دی۔ اب ایک ہی کمرے میں ایک حسین وجمیل دوشیزہ اوریہ متقی وپرہیزگار نوجوان ایک ساتھ رہنے لگے ۔وہ لڑکی روزانہ نئے نئے انداز سے بناؤ سنگھار کر کے نوجوان کو مائل کرنے کی کوشش کرتی لیکن اللہ عزوجل کا وہ نیک بندہ نماز وتلاوت میں مشغول رہتا، اس کی راتیں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آہ و زاری اورنیاز مندی میں گزر