نے میری بات نہ مانی اوردین عیسوی قبول نہ کیا تو میں تمہیں ایسی درد ناک سزادوں گا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ابھی موقع ہے کہ تم میری پیشکش قبول کرلو اور خوب عیش وعشرت کی زندگی گزار و۔ '' ان عاشقانِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے بڑی بہادری سے جواب دیا :'' ہم ایسی عیش وعشرت بھری زندگی پر لعنت بھیجتے ہیں جو ہمیں اسلام کی عظیم دولت سے محروم کردے۔ تم لاکھ کوشش کرلو لیکن ہمارے دلوں میں اسلام کی جو شمع روشن ہے تم اسے کبھی بھی نہیں بجھا سکتے، ہمارے دلوں میں ہمارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جو محبت ہے تم اسے ہمارے دلوں سے کبھی بھی نہیں نکال سکتے۔ ہم اللہ عزوجل کی وحدانیت کے کبھی بھی منکر نہ ہوں گے ۔ ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں، تمہیں جو کرنا ہے کرلو۔
؎ نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
بادشاہ کو بہت غصہ آیا اوراس نے اپنے جلاّدوں کو حکم دیا کہ تین بڑی بڑی دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ جلا دو۔ جب تیل خوب گرم ہوجائے اورکھولنے لگے تو مجھے اطلاع کردینا ۔ جلاد حکم پاتے ہی دوڑے اورتین دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ لگادی۔ مسلسل تین دن تک وہ دیگیں آگ پر رکھی رہیں۔ ان مجاہدین کو روزانہ نصرانیت کی دعوت دی جاتی اور لالچ دیا جاتا کہ تمہیں شاہی عہدہ بھی دیا جائے گااور شاہی خاندان میں تمہاری شادی بھی کرادی جائے گی لیکن ان کے قدم بالکل نہ ڈگمگائے ۔ چوتھے دن بادشاہ نے پھر انہیں لالچ اوردھمکی دی لیکن وہ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا ۔ اب بادشاہ کو بہت غصہ آیااورا س نے سب سے بڑے بھائی کو مخاطب کر کے کہا:'' اگر تو نے میری بات نہ مانی تو تجھے اس کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دوں گا۔'' مگراس عاشقِ رسول، جرأت مندمجاہد پربادشاہ کی دھمکی کا کچھ اثر نہ ہوا۔بادشاہ نے جلادوں کوحکم دیا کہ اسے اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا جائے۔ حکم پاتے ہی جلاد آگے بڑھے اور انہوں نے اس مرد ِحق کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔ آن کی آن میں اس راہِ خدا عزوجل کے عظیم مجاہد کا سارا گوشت جل گیا اورتیل میں اس کی ہڈیاں نظر آنے لگیں۔ بظاہر تو یہ نظر آرہا تھا کہ اس کا گوشت جل گیا لیکن در حقیقت اس مجاہد نے اس گرم تیل میں غوطہ لگایا اورجنت کی نہروں میں پہنچ گیا اور اسے دائمی حیات کی دولت نصیب ہوگئی اور اس کی جامِ شہادت نوش کر نے کی خواہش پوری ہوگئی۔
پھر بادشاہ نے اس سے چھوٹے بھائی کو بلایا اوراسے بھی لالچ اوردھمکیاں دیں اورکہا:'' اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تمہارا حشر بھی تمہارے بھائی جیسا ہی ہوگا۔'' اس مردِ مجاہدنے جواب دیا:''ہم تو کب سے جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے بےتاب ہیں۔ ہمیں نہ تودولت وشہرت چاہے اورنہ ہی ملک وحکومت بلکہ ہمارامطلوب تو راہ خدا عزوجل میں جان دے دینا ہے ۔ ہمیں موت تو بخوشی قبول ہے لیکن دین اسلام سے انحراف نا ممکن۔