Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
375 - 410
اسلام کے تین شیروں نے جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دیاتوبادشاہ کو ان کی بہادری پر بڑا تعجب ہوا اوراس نے اعلان کیا:'' جو کوئی ان تینوں میں سے کسی کو گرفتار کر کے لائے گا میں اسے اپنے خاص عہدے داروں میں شامل کرلوں گااوراسے گورنر بناؤں گا۔'' جب رومیوں نے یہ اعلان سنا تو روم کے بڑے بڑے بہادروں نے ان تین نوجوانوں کو قید کرنے کا ارادہ کیا اور بہت سے لوگ ان جاں نثاروں کو قید کرنے کے لئے میدانِ کارزار کی طر ف گئے ۔

    دوسرے دن دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ جاری تھی ۔ یہ تینوں بھائی سب میں نمایاں تھے جس طرف رخ کرتے رومیوں کی شامت آجاتی۔ ان کی گردنیں تن سے جدا ہو کر گر پڑتیں۔جب لالچی رومیوں نے دیکھا کہ یہ تینوں نوجوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مصروفِ جنگ ہیں توبہت سے رومیوں نے مل کر پیچھے سے ان تینوں بھائیوں کو گھیرے میں لے لیا اورپھندا ڈال کر ان شیروں کو قید کر کے بادشا ہِ روم کے دربار میں لے گئے ۔ جب بادشاہ نے ان تینوں مجاہدوں کو دیکھاتو کہنے لگا: ''ان سے بڑھ کر نہ تو ہمارے لئے کوئی مالِ غنیمت ہے اورنہ ہی ان کی گرفتاری سے بڑھ کر کوئی فتح ۔''

     پھر ان تینوں مجاہدین کو ''قسطنطنیہ ''لے جایا گیا اوربادشاہ نے ان کو اپنے دربار میں بلا کرکہا: ''تمہاری بہادری قابلِ تعریف ہے لیکن تم نے ہمارے خلاف جنگ کی جرأ ت کی لہٰذا تمہاری سزا موت کے سواکچھ نہیں۔ ہاں! اگرتم اپنے دینِ اسلام کو چھوڑ کر نصرانی ہوجاؤ تو ہم تمہاری جان بخشی کردیں گے۔ تمہیں شاہی دربار میں اعلیٰ مقام دیا جائے گا اورمیں اپنی شہزادیوں کی تم سے شادی کردوں گا۔بس تم دین اسلام کو چھوڑ کر ہمارا دینِ(عیسوی)قبول کرلو۔'' بادشاہ کی یہ بات سن کر اسلام کے ان عظیم مجاہدوں نے بہت جرأ ت مندی کا مظاہرہ کیا اوربڑی بے خوفی اوربہادری سے جواب دیا :''ہم اپنے دین کوکبھی بھی نہیں چھوڑ سکتے اس دین کی خاطر سر کٹانا ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔تم ہمارے ساتھ جو چاہے کرو ان شاء اللہ عزوجل ہمارے پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آئے گا۔'' یہ کہہ کر تینوں بھائی بیک وقت شاہ ِروم کے دربار میں کھڑے ہوکر اپنے پیارے نبی ، دو عالَم کے والی، سلطان دوجہاں ، رحمت عالمیاں، نبی آخرالزماں، محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں استغاثہ کرتے ہوئے ''یا محمداہ ! یا محمداہ ! یا محمداہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!''کی صدائیں بلند کرنے لگے ۔ 

    جب بادشاہ نے یہ دیکھا تو پوچھا: ''یہ کیا کہہ رہے ہیں؟''لوگوں نے بتایا:'' یہ اپنے نبی، محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی بارگاہ میں استغاثہ کر رہے ہیں ۔ 

     اس بد بخت بادشاہ کو بہت غصہ آیاکہ انہیں اپنے نبی سے اتنی محبت ہے کہ اپنی جان کی پرواہ تک نہیں بلکہ ایسی حالت میں بھی ان کی توجہ اپنے نبی کی طرف ہے پھراس بدبخت بادشاہ نے ان مجاہدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:''کان کھول کر سن لو!اگر تم