حضرت سیدنا علی بن یزیدی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے وا لدِ گرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''ملکِ شام سے مجاہدینِ اسلام کا لشکر دینِ حق کی سربلندی کے مقدس جذبہ سے سرشار دلوں میں شہادت کا شوق لئے روم کے عیسائیوں سے جہاد کرنے روانہ ہوا۔
اس عظیم لشکر میں تین سگے بھائی بھی شامل تھے ۔تنیوں شجاعت وبہادری، جنگی مہارت ، حسن وجمال اورزہد وتقوی میں اپنی مثال آپ تھے ۔وہ جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے ہروقت تیار رہتے ۔ لشکرِ اسلام کفار کی سرکوبی کے لئے منزلوں پر منزلیں طے کرتا روم کی سرحد کی جانب بڑھتا چلا جارہاتھا۔ ان تینوں بھائیوں کا انداز ہی نرالا تھا وہ لشکر سے علیٰحدہ ہوکر چلتے ، جب لشکرِ اسلام کسی جگہ قیام کرتا تووہ لشکر سے کچھ دور قیام کرتے ۔ اگر کہیں ان کے ہم پلّہ یا ان سے زیادہ طاقتور دشمن نظر آجاتے تو یہ تین افراد پر مشتمل مختصر ساقافلہ آن کی آن میں انہیں ختم کردیتا۔
جب مجاہدین کا لشکر رومی سرحد کے قریب پہنچ گیا تو اچانک مسلمانوں کے ایک دستے پر رومی سپاہیوں کے ایک دستے نے حملہ کردیا ۔رومیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی۔ اسلام کے جیالے اپنی جانوں سے بے فکر مجاہدانہ وار روم کی عیسائی فوج سے برسرِپیکار تھے ۔ مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اچانک رومیوں نے مسلمانوں پر شدید حملہ کردیا اوربہت سے مسلمان جامِ شہادت نوش کرگئے اور کچھ قید کرلئے گئے ۔ جب ان تین بھائیوں کو یہ خبر ملی تو وہ تڑپ اُٹھے اورایک دوسرے سے کہنے لگے :''اب ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو پہنچیں اور راہ ِخدا عزوجل میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں ۔
چنانچہ اسلام کے یہ تینوں شیر غیظ وغضب کی حالت میں میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئے ۔وہاں مسلمان بہت سختی کی حالت میں تھے ۔انہوں نے وہاں پہنچ کر نعرئہ تکبیر بلند کیا اورکہا :''اے ہمارے مسلمان بھائیو!اب تم نہ گھبراؤ، ہم تمہاری مدد کو پہنچ چکے ہیں۔ سب کے سب جمع ہوجاؤ اور ہمارے پیچھے پیچھے رہو ۔ ان شاء اللہ عزوجل ان رومی کُتّوں کو ہم تینوں شیر ہی کافی ہیں ۔
یہ سن کر مسلمانوں کا جذبہ بڑھا اور وہ ایک جگہ جمع ہونے شروع ہوگئے۔ ان تینوں بھائیوں نے آندھی وطوفان کی طرح رومیوں کی فوج پر حملہ کیا جس طرف جاتے لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے، ان کی تلواروں اورنیزوں نے ایسے جنگی جوہر دکھائے کہ رومیوں کو اس معرکہ میں منہ کی کھانی پڑی اوروہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اوراپنے لشکر سے جا ملے ۔
وہ رومی جو اس بات پر خوش ہو رہے تھے کہ آج ہم مسلمانوں پرغالب آجائیں گے جب ان پر اسلام کے بپھرے ہوئے ان تین شیروں نے حملہ کیا تو رومی ، لومڑی کی طرح میدان جنگ سے بھاگ گئے ۔جب روم کے عیسائی بادشاہ کو یہ خبر ملی کہ