مُردوں کی مانند ہوجاتاہے ۔ ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (عاجزی کرتے ہوئے) فرماتے ہیں:''میری حالت تو ایسی ہے کہ اگرمیر ی کوئی حاجت پوری نہ ہوتو رونے لگتا ہوں لیکن موت کے خوف سے رونا نہیں آتا ۔اے ابن آدم!تجھ پر افسوس ہے، اگر تجھے کوئی دنیاوی نعمت نہ ملے تو تُوپریشان وغمگین ہوجاتاہے اور ان عارضی چیزوں کے ملنے پر تجھے خوشی ہوتی ہے جنہیں موت تجھ سے جدا کردے گی ۔ یاد رکھ! موت آتے ہی تمام دنیاوی نعمتیں تجھ سے واپس لے لی جائیں گی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے تھے :'' اگر عفو ودرگزر اوررحم وکرم اللہ عزوجل کی صفات نہ ہوتیں تو اہلِ معرفت کبھی بھی اس کی نافرمانی نہ کرتے، جب اللہ عزوجل نے اپنے عفوودرگزر اوررحم وکرم کا مژدہ جانفزاسنایاتو گناہگاروں کا آسرابڑھ گیا اور انہیں پختہ یقین ہوگیا کہ ہمارا رب عزوجل ہماری غلطیوں اورکوتاہیوں سے ضرور درگزر فرمائے گا۔ اللہ عزوجل نے اپنے عفو وکرم کا اعلان فرمایا تاکہ لوگ جان جائیں کہ ہمارا پروردگار عزوجل بہت رحیم وکریم ہے، وہ گناہ گاروں کے بڑے بڑے گناہوں کو محض اپنے لُطف وکرم سے معاف فرمادیتا ہے ،اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحیم وکریم ہے ،اس لئے گناہگار گناہ ہوجانے پر اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے پروردگار عزوجل سے اُمیدِ واثق رکھتے ہیں کہ وہ گناہوں کو بخش دے گا اور رحم وکرم فرمائے گا کیونکہ اس کے رحم وکرم کی کوئی اِنتہانہیں ۔