Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
355 - 410
چنانچہ ہم سب قافلے والے کسی عابد کی تلاش میں اس وادی میں گھومنے لگے،ایک جگہ انتہائی نورانی چہرے والا ایک شخص نظرآیا،جب ہم اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ زارو قطار رو رہا ہے ۔

    حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس بزرگ سے پوچھا : ''اے نیک انسان !تم کیوں رو رہے ہو، تمہیں کس چیز کے غم نے رُلایا ہے ؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بات سن کر اس عابد نے جو اب دیا:'' میں کیو ں نہ روؤں،ہماری اُخروی منزل کے راستے بہت دشوار گزار ہیں اوران راستوں پر چلنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، نیک اعمال چھوڑدیئے گئے ہیں ، نیکیوں کی طرف رغبت کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ لو گ خود حق بات نہیں کرتے لیکن دوسروں کو حق گوئی کی تلقین کرتے ہیں۔ قول وفعل میں تضاد کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص ایک دوسرے کو نیک اعمال کی ترغیب دلاتاہوا نظر آتاہے لیکن خود عمل سے دور رہتا ہے۔ لوگوں نے نرمی اوررخصت والا راستہ اختیار کیا ہوا ہے اوراکثرباتوں میں کسی نہ کسی طرح کی تاویل نکال کر نیک اعمال میں سستی کرتے ہیں۔ آج کل لوگوں نے نیک لوگوں کی پیروی چھوڑکر نافرمانوں اوردنیا داروں کے مذموم افعال کی اتباع شروع کر دی ہے۔ ''

    پھر اس عابد نے ایک زور دار چیخ ماری اورکہنے لگا:'' نجانے کیوں؟لوگوں کے دل اس فانی دنیاکی خوشیوں سے تو مسرور وشاداں ہوتے ہیں لیکن اللہ عزوجل کی محبت سے دورہیں۔اس کی سچی محبت اِن کے دلوں میں گھر کیوں نہیں کرتی، زمین وآسمان کے مالک عزوجل کی محبت سے انہیں آشنائی کیوں نہیں ہوتی ، یہ اس کی محبت میں کامل کیوں نہیں ؟''

    پھر وہ عابد چیخنے لگا اوریہ کہتا ہوا وہاں سے چل پڑا:'' ہائے حسرت وافسوس! علماء سوء کی فتنہ انگیزیوں پر! ہائے شدتِ غم ! ان لوگوں پر جو(گناہوں کے باوجود) نازو نخرے کرتے ہیں اوربڑی جرأ ت مندی سے دندناتے پھرتے ہیں۔''وہ عابد کچھ سوچ کر دوبارہ ہمارے پاس آیا اورکہنے لگا :''علماء میں سے وہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کہاں ہیں جنہیں یہ توفیق ہوکہ وہ اپنے علم پر عمل کرتے ہوں پھر بھی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتاہے ،اپنے آپ کو زاہد کہنے والوں میں حقیقی زاہد کون ہیں؟ آج کل ایسے عظیم لوگ کہاں ملتے ہیں؟'' اتنا کہنے کے بعد اس عابد نے رونا شروع کردیا۔اورکہا:

    جو حقیقی عالم اورحقیقی زاہد ومتقی ہوگا اسے ہر وقت حشر کے میدان میں طویل قیام ،اس کی ہولناکیوں اوروہاں کی سختیوں کی فکر دامن گیر ہوگی اوراسے تو ہروقت یہی فکر وغم ہوگا کہ میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کس طرح اس کے سوالوں کا جواب دوں گا، نجانے میرا ٹھکانہ جنت میں ہوگا یا جہنم کی آگ میرا مقدر ہوگی؟ایسی ہی باتوں میں غورو فکر کرنا علماء ربانیین کا محبوب مشغلہ ہے ۔         تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعدپھر وہ بولا: ''میں کثرت کلام سے اپنے پاک پروردگار عزوجل کی پناہ چاہتاہوں، اللہ عزوجل ہمیں فضول گوئی سے بچائے اورایسی باتیں کرنے کی توفیق عطافرمائے جو نیکی کی دعوت پر مبنی ہوں ۔''اتنا کہنے کے بعد وہ