یہ کہنے کے بعد میری بیٹی نے وہ صراحی ٹھنڈی جگہ رکھ دی ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں ایک حسین وجمیل عورت دیکھی، اس نے چاندی کی قمیص پہنی ہوئی تھی ، اس کے پاؤں میں ایسی خوبصورت جوتیاں تھیں کہ میں نے آج تک ایسی جوتیاں کہیں نہیں دیکھیں اور نہ ہی ایسے خوبصورت پاؤں کبھی دیکھے۔ وہ میرے پاس اسی دروازے سے اس کمرے میں آئی۔
میں نے اس سے کہا :''تُو کس کے لئے ہے ؟'' اُس نے جواب دیا : ''مَیں اس کے لئے ہوں جو ٹھنڈے پانی کی خواہش نہ کرے اور صراحی کا ٹھنڈاپانی نہ پئے۔''اِتنا کہنے کے بعد اس نے صراحی کو اپنی ہتھیلیو ں سے گھمانا شروع کیا ۔ میں نے وہ صراحی اس سے لی اور زمین پر دے ماری پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ جو تم سامنے ٹو ٹی ہوئی صراحی دیکھ رہے ہو یہ وہی صراحی ہے ۔''
حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :''اس کے بعد حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے کبھی بھی ٹھنڈا پانی نہ پیا۔ مَیں جب بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جاتا تو دیکھتا کہ وہ صراحی اسی طر ح ٹوٹی ہوئی پڑی ہے اور اس پر گرد وغبار کی تہہ جم چکی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس خواب کے بعد صراحی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)