شخص حضرت سیدنا احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہو اور عرض کی :''حضور! میں نے حضرت سیدنا یزید بن ہارو ن واسطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:'' مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو انہوں نے جواب دیا:'' میرے پاک پروردگار عزوجل نے میرے گناہوں کو بخش دیا، مجھ پر خوب کرم فرمایا لیکن مجھ پر عتاب بھی ہوا۔'' مَیں ان کی یہ بات سن کر متعجب ہواا ور پوچھا:'' آپ کی مغفرت بھی ہوگئی، آپ پر رحم بھی کیا گیا پھر عتا ب بھی ہوا ؟''توانہوں نے جواباً فرمایا : ''ہاں ! مجھ سے پوچھا گیا کہ اے یزید بن ہارو ن واسطی ! کیا تُو نے جریر بن عثمان سے کوئی حدیث نقل کی ہے ؟ ''میں نے کہا:' 'ہاں! اللہ ربُّ العزَّت عزوجل کی قسم! میں نے اس میں ہمیشہ بھلائی ہی پائی۔'' پھر مجھ سے کہا گیا:''مگر وہ ابوالحسن حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے بغض رکھتاتھا۔''
؎ محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تمام اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی سچی محبت عطا فرما، ہمارے دلوں کو ان کی محبت سے معمور فرما، ان کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرما، تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان پر خوب رحمتوں کی برسا ت فرما اور ان پاکیزہ ہستیوں کے صدقے ہماری مغفرت رما۔آمین بجاہ النبی ا لامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)