کی کھال اُتار کر اس میں بھوسا بھر دیا گیا ۔ پھر اس کی لاش کو با دشاہ کے دربار میں بھجوادیا گیا۔ وہ شخص جس سے یہ حسد کیا کرتا تھا حسبِ معمول بادشاہ کے دربار میں گیا اور با دشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہی الفا ظ دہرائے:'' محسن کے ساتھ احسان کر اور جو کوئی برائی کریگا اسے عنقریب اس کی برائی کا صلہ مل جائے گا۔''جب بادشاہ نے اس شخص کوصحیح وسالم دیکھا تو اس سے پوچھا :'' میں نے تجھے جو خط دیا تھا اس کا کیا ہو ا؟''اس نے جواب دیا:'' میں آپ کا خط لے کر گورنر کے پاس جا رہاتھا کہ مجھے راستے میں فلاں شخص ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو،چنانچہ میں نے اسے خط دے دیا اور وہ خط لے کر گو رنر کے پاس چلا گیا ہے ۔''
با دشاہ نے کہا :''اس شخص نے مجھے تمہارے بارے میں بتا یا تھا کہ تم میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ میرے منہ سے بدبُو آتی ہے، کیا واقعی ایسا ہے ؟ ''اس شخص نے کہا :''با دشاہ سلامت !میں نے کبھی بھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔''
توبادشاہ نے پوچھا:'' جب میں نے تجھے اپنے قریب بلایا تھاتوتُو نے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا ؟'' اس شخص نے جواب دیا: ''بادشاہ سلامت! آپ کے در بار میں آنے سے کچھ دیر قبل اس شخص نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں مجھے بہت زیادہ لہسن کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے میرا منہ بد بُو دار ہوگیا۔جب آپ نے مجھے اپنے قریب بلایا تو میں نے یہ بات گوارا نہ کی کہ میرے منہ کی بد بُو سے بادشاہ سلامت کو تکلیف پہنچے اسی لئے میں نے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا ۔''
جب بادشاہ نے یہ سنا تو کہا:اے خوش نصیب شخص! تُو نے بالکل ٹھیک کہا تیری یہ بات بالکل سچی ہے کہ'' جو کسی کے ساتھ برائی کرتا ہے اسے عنقریب اس کی برائی کا بدلہ مل جائے گا۔'' اس شخص نے تیرے ساتھ برائی کا اِرادہ کیا اور تجھے سزا دلوانی چاہی لیکن اسے اپنی برائی کا صلہ خود ہی مل گیا ۔سچ ہے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں جا گرتا ہے ۔ اے نیک شخص! میرے سامنے بیٹھ او راپنی اسی بات کو دہرا۔'' چنانچہ وہ شخص بادشاہ کے سامنے بیٹھا اور کہنے لگا :''محسن کے ساتھ احسان کر اور برائی کرنے والے کو عنقریب اس کی برائی کی سزا خود ہی مل جائے گی۔ ''
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو کسی پر احسان کرتا ہے اس پر بھی احسان کیا جاتاہے اورجوکسی کے لئے براچاہتا ہے اس کے ساتھ برا معاملہ ہی ہوتا ہے۔ جو دو سروں کی تباہی وبربادی کا خواہاں ہوتا ہے وہ خود تباہ و بر باد ہوجاتا ہے۔ جو کسی سے حسد کرتا ہے اسے اس کے حسد کی سزا خود ہی مل جاتی ہے ، اچھے کام کا اچھا نتیجہ اور برے کا م کا برا نتیجہ، جیسی کرنی ویسی بھرنی، اللہ عزوجل ہمیں حسد جیسی بیماری سے محفوظ فرمائے آمین )
سچ ہے کہ بُرے کام کاا نجام بُرا ہے