ایک مرتبہ وہ ایک بادشاہ کے دربار میں گیااوراس سے اجازت چاہی کہ میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ با دشاہ نے اجازت دی اور اسے اپنے سامنے کُرسی پر بٹھا یا اور کہا:'' اب جو کہنا چاہتے ہو کہو۔'' اس شخص نے کہا:'' محسن کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ '' با دشاہ اس کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اسے انعام واکرام سے نوازا ۔''یہ دیکھ کر بادشاہ کے ایک درباری کو اس شخص سے حسد ہوگیا اور وہ دل ہی دل میں کڑھنے لگا کہ اس عام سے شخص کو بادشاہ کے دربار میں اتنی عزت اور اِتنا مقام کیوں حاصل ہوگیابالآخر وہ حسد کی بیماری سے مجبور ہو کر با دشاہ کے پاس گیا اور بڑے خوشامد انہ انداز میں بولا:''با دشاہ سلامت ! ابھی جو شخص آپ کے سامنے گفتگو کرکے گیا ہے اگرچہ اس نے باتیں اچھی کی ہیں لیکن وہ آپ سے نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ با دشاہ کو گندہ دہنی (یعنی منہ سے بدبُوآنے ) کامرض لاحق ہے ۔''
جب با دشاہ نے یہ سنا تو پوچھا :'' تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ میرے بارے میں ایسا گمان رکھتا ہے ؟'' وہ حاسد بولا: ''حضور! اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ آزماکر دیکھ لیں، اسے اپنے پاس بلائیں جب وہ آپ کے قریب آئے گا تو اپنی ناک پرہاتھ رکھ لے گا تا کہ اسے آپ کے منہ سے بد بُو نہ آئے۔'' یہ سن کربا دشاہ نے کہا : ''تم جاؤ جب تک میں اس معاملہ کی تحقیق نہ کرلوں اس کے بارے میں کو ئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔''
چنانچہ وہ حاسد دربارِ شاہی سے چلا آیا اور اس شخص کے پاس پہنچا جس سے وہ حسد کرتا تھا ۔اسے کھانے کی دعوت دی، اس نے حاسد کی دعوت قبول کی اور اس کے ساتھ چل دیا۔ حاسد نے اسے جو کھانا کھلایا اس میں بہت زیادہ لہسن ڈال دیا۔ اب اس شخص کے منہ سے لہسن کی بد بُو آنے لگی بہر حال وہ اپنے گھر آگیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ با دشاہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا: ''بادشاہ نے آپ کو ابھی دربار میں بلایا ہے ۔'' وہ شخص قاصد کے ساتھ دربار میں پہنچا ۔ با دشاہ نے اسے اپنے سامنے بٹھا یا اور کہا: '' ہمیں وہی کلمات سناؤ جو تم سنایاکرتے ہو ۔'' اس شخص نے کہا :'' مُحسِن کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کریگا اسے برائی کابدلہ خود ہی مل جائے گا ۔''
جب اس نے اپنی بات مکمل کرلی تو بادشاہ نے اس سے کہا :'' میرے قریب آؤ۔'' وہ بادشاہ کے قریب گیا تو اس نے فوراً ًاپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تا کہ لہسن کی بدبُو سے بادشاہ کو تکلیف نہ ہو ۔ جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تواپنے دل میں کہا کہ اس شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ میرے متعلق یہ شخص گمان رکھتا ہے کہ مجھے گندہ دہنی (یعنی منہ سے بد بُوآنے ) کی بیماری ہے۔ با دشاہ اس شخص کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہوگیا اور بلا تحقیق اس نے فیصلہ کرلیا کہ اس شخص کو سخت سزا ملنی چاہے ۔ چنانچہ اس نے اپنے گورنر کے نام اس طرح خط لکھا :''اے گورنر! جیسے ہی یہ شخص تمہارے پاس پہنچے اسے ذبح کردینا اور اس کی کھال اُتا ر کر اس میں