ترجمان نے امیر المؤمنین کویہ بات بتائی تواس نے کہا:'' اپنے ان کلمات کی مزید وضاحت فرما دیں ۔'' توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تر جمان سے فرما یا:''امیر المؤمنین سے کہہ دو کہ نصیحت کرنے والوں میں تجھے دوقسم کے لوگ ملیں گے ایک تو وہ جوتجھے اس طر ح نصیحت کریں گے :'' اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل سے ہردم ڈرتے رہو تم بھی اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے ایک فرد ہو مگر تم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آپڑی ہے اللہ عزوجل نے تمہیں لوگوں پرامیر مقرر فرمایا ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری تمہیں سونپی ہے۔ کل بر وز قیامت تم سے تمہاری ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اللہ عزوجل سے ڈرتے رہو، عدل وانصاف سے کام لو، کسی کے ساتھ ظلم نہ کرو، سیدھا راستہ اختیار کرو، دشمنانِ اسلام سے جنگ کرنے کا موقع آئے تو ان سے بھرپور انداز میں جہاد کرو اوراپنے معاملے میں اللہ عزوجل سے ہر وقت ڈرتے رہو کبھی بھی اپنے آپ کو لوگوں سے بالا تر نہ سمجھو۔ ہر دم اللہ عزوجل کے خوف سے کا نپتے رہو۔''
اے امیر المؤمنین! نصیحت کرنے والوں کی دوسری قسم میں ایسے لوگ شامل ہیں جو تمہیں اس طرح کہیں گے :'' اے امیر المؤمنین !آپ تو بڑی شان والے ہیں ، آپ کو آخرت کے معاملے میں زیادہ پر یشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ تونبی کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرابت داروں میں سے ہیں لہٰذا اب آپ بے فکر ہوجائیں ۔''
پھر اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ تمہیں کسی غلط بات پرٹو کتے بھی نہیں اور مسلسل ایسی باتیں کرتے ہیں کہ خوفِ آخرت جاتا رہتا ہے اورایسی امیدوں کی وجہ سے بندہ آخرت کے معاملات سے بالکل بے فکر ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ تمہیں اُمیدیں ہی دلاتے رہیں گے او رتم اپنے آپ کومغفرت یافتہ لوگو ں میں شمار کرنے لگو گے حالانکہ ابھی نہ تو تمہیں امان ملی اورنہ ہی ابھی تم امن والی جگہ (یعنی جنت) میں داخل ہوئے ۔
اے امیر المؤمنین! ان دو سری قسم کے لوگو ں سے پہلی قسم کے لوگ اچھے ہیں۔ عشرہ مبشرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی گئی تھی لیکن پھر بھی ان کا عمل مزید بڑھتا ہی گیا۔ خوفِ خدا عزوجل میں مزید اضافہ ہی ہوا ۔ انہوں نے کبھی بھی یہ سوچ کر کوئی نامناسب کام نہیں کیا کہ ہمیں تو جنت کی بشارت مل گئی اب ہم جو چاہیں کریں بلکہ وہ پاکیزہ لوگ ہر آن اللہ عزوجل سے ڈرتے رہتے۔ انہوں نے خوف ورجاء والا معقول راستہ اختیار کیا ،اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہوئے اور اس کے غضب سے بے خوف بھی نہ ہوئے لہٰذا اے امیر المؤمنین! راستہ وہی اچھا جو معتدل ہو نہ تو اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا چاہے کہ اہلِ بیت اَطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضور نبی ئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قرابت کی وجہ سے بڑی شان ملی ہے اور آخرت میں بھی شفاعت ضرور نصیب ہوگی لیکن اللہ عزوجل کی طر ف سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہے ۔''