کہ جس کو ضرورت ہو گی وہ مجھے مزدوری کے لئے لے جائے گا ۔
یکے بعد دیگرے تمام مزدوروں کو کوئی نہ کوئی اجرت پر کام کروانے کے لئے لے گیا لیکن اس کے پاس کوئی نہ آیا۔جب اس عابد نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا:''اللہ عزوجل کی قسم !میں آج مالکِ حقیقی عزوجل کی مزدوری (یعنی عبادت)کروں گا۔'' چنانچہ وہ دریا پر آیا اور وضو کر کے نوافل پڑھنے لگا اور سارا دن اسی طرح رکوع و سجود میں گزار دیا۔ شام کو جب گھر پہنچا تو اس کی زوجہ نے پوچھا:''کیا کسی کے ہاں تمہیں مزدوری ملی ؟'' اس نے جو اب دیا: ''میں نے آج بہت کریم مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے اس مزدوری کا بہت اچھا بدلہ دے گا۔
دوسری صبح دوبارہ یہ عابد مزدوروں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ سب کو کوئی نہ کوئی اپنے ہاں کام پر لے گیا لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ اس نے دل میں کہا:'' خدا عزوجل کی قسم! آج پھر میں مالک حقیقی عزوجل کی مزدوری کروں گا۔''وہ پھر دریا پر آیا وضو کیا اور خوب خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے لگا۔ سارا دن اسی طرح رکوع وسجود میں گزر گیا۔ شام کو جب وہ گھر پہنچا اور اس کی زوجہ نے اسے خالی ہاتھ دیکھا تو کہنے لگی:''آج کیا ہوا ؟''اس نے جواباً کہا:'' آج پھر میں نے اسی مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، وہ بڑا کریم ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ مجھے اس مزدوری کا اچھا بدلہ دے گا،میری اُجرت اس مالک کے پاس جمع ہو رہی ہے۔'' فاقوں کی ماری زوجہ نے جب یہ بات سنی تو شوہر سے جھگڑنے لگی کہ یہاں کئی دن سے فاقے ہو رہے ہیں ،بچوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دیکھی نہیں جاتی۔ ہم میں سے کسی نے بھی کئی دنوں سے ایک لقمہ تک نہیں کھایا اور تم جس مالک کے ہاں مزدوری کر رہے ہو اس نے تمہیں اج بھی تمہاری اُجرت نہیں دی، اس طرح کیسے گزارہ ہو گا؟''
اس پروہ عابد بہت پریشان ہوا اور اس نے ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزار دی۔ بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ اس کی اپنی بھی حالت قابلِ رحم تھی بالآخر صبح وہ پھر بازار گیا اور مزدورں کی صف میں کھڑا ہو گیا ۔آج پھر اس کے علاوہ سب کو مزدوری مل گئی لیکن اسے کوئی بھی اپنے ساتھ نہ لے گیا ۔
وہ عابد بھی اپنے پاک پروردگا ر عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونے والا نہیں تھا۔ وہ دریا پر پہنچااوروضو کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا:'' میں اج پھر اپنے مالک حقیقی عزوجل کی مزدوری کروں گا، وہ ضرور مجھے اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔'' چنانچہ آج پھر اس نے سارا دن عبادت میں گزار دیالیکن شام تک اسے کہیں سے بھی رزق کا بندوبست ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ میں گھر جا کر بچوں اور بیوی کو کیا جواب دوں گا ؟پھر اس کے یقین نے اس کی ڈھارَس بندھائی کہ جس پاک پروردگار عز وجل کی تو عبادت کرتا ہے وہ تجھے مایوس نہ کریگا۔ اس کی ذات پر کامل یقین رکھ ،وہ ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ بالآخر وہ گھر کی طرف