آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا،اب معاملہ بالکل ختم ہو چکا تھا۔ جب خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو اطلاع ملی کہ عیسیٰ بن جعفر نے مظلوم کا حق ادا کر دیا ہے اور اس سے معافی بھی مانگ لی ہے تواس نے حکم دیا کہ اب محاصرہ ختم کر دیا جائے اور تمام راستے کھول دےئے جائیں۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے پیغام بھجوایا کہ کبھی بھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ یہ
عہدہ ومنصب سب عارضی چیزیں ہیں، ان کے بَل بوتے پر کسی کو تنگ کرنا بہادری نہیں۔ ہمیشہ خوف خدا عزوجل کو پیش نظر رکھو، انصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑو ،اللہ ربُّ العزَّت مظلوموں کو بہت جلد ان کا حق دلوا دیتا ہے۔ ا چھاہے وہ شخص جو اللہ عزوجل کی مخلوق کو خوش رکھے اور اس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
(سبحان اللہ عزوجل! ایسے پاکیزہ دین پر قربان جائیں جس نے ہمیں ایسے ایسے جرأت مندافراد عطا کئے جو حق کی خاطر بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا جاتے، کسی کی دنیاوی ہیبت وحیثیت انہیں مرعوب نہ کر سکتی تھی،وہ اس وقت تک سُکھ کا سانس نہ لیتے جب تک اہل ِحق کو اس کا حق نہ مل جائے ،انہوں نے غیرِ حق کے سامنے کبھی بھی سر نہیں جھکایا،اسلام میں ایسے ایسے حکمران بھی گزرے جنہوں نے ایک غریب مظلوم فریادی کی فریاد پر گورنروں کو پابندِ سلاسل کردیا اور جب تک حق دار کو حق نہ ملا اس وقت تک قید ہی میں رکھا،اللہ رب العزت ہمیں ایسے با ہمت وعادل حکمران اور قاضی دوبارہ عطا فرمائے جوظالموں کو ظلم کی سزا دیں اور مظلوموں اوربے بسوں کی فریاد رسی کریں ، اللہ رب العزت ہمیں اچھے قا ئدین عطا فرمائے اور ہم سے بھی اپنے دین متین کی خدمت کا کام لے لے، ہمیں خوب خوب سنتوں کی تبلیغ کی توفیق عطا فرمائے اورغیرت ایمانی سے مالامال فرمائے، ہمیں ہر حال میں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے چاہے، اگرچہ اس معاملے میں ہمیں جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، اللہ عزوجل ہمارا خاتمہ بالخیرفرمائے ۔اٰمین بجاہ ِالنبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
؎ غلامانِ محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے