''اے بیٹا! اس حالت میں میری کتنی نمازیں فوت ہوگئیں دویا تین نماز یں۔'' میں نے عرض کی :''حضور! آپ کی تین دن اور تین راتوں کی نمازیں فوت ہو چکی ہيں، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تین دن تک بے ہوشی کی حالت میں رہے ہیں ۔'' پس انہوں نے اپنی نمازیں مکمل کیں۔
پھر مجھ سے فرمایا:''جب میں اپنے پاک پروردگار عزوجل کا ذکر کرتا ہوں تو میرا شوقِ ملاقات بڑھ جاتا ہے، مجھ پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ، میں مخلوق سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا کیونکہ لوگو ں کی ملاقات مجھے میرے رب عزوجل کے ذکر سے غافل کر دیتی ہے۔بیٹا! اب تم یہاں سے چلے جاؤ تا کہ میں اپنے رب عزوجل کی عبادت کر سکوں، اللہ عزوجل تمہیں اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔''
جب میں نے یہ سنا تومجھے رونا آگیااورمیں نے عرض کی: ''حضور! میں مسلسل تین دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر رہا ہوں، مجھے مزید کچھ نصیحت فرما یئے۔''
تو وہ بزرگ فرمانے لگے:'' اے میرے بیٹے! اپنے رب عزوجل سے سچی محبت کر ، اس کی محبت کے عوض کوئی چیز طلب نہ کر، اس سے بے غر ض محبت کر۔بے شک جو لوگ اللہ عزوجل سے محبت کرتے ہیں وہ لوگو ں کے سردار ہیں ، زاہدوں کی نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگ اللہ عزوجل کے منتخب شدہ بندے ہیں، اللہ عزوجل نے انہیں اپنی محبت کے لئے منتخب فرمالیاہے ،یہ لوگ اللہ عزوجل کے پسندیدہ بندے ہیں۔ اتنا کہنے کے بعد اس نیک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک چیخ ماری او راس کی رُو ح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔''
کچھ ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ مختلف سمتو ں سے بہت سے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پہاڑو ں سے اُتر کر آرہے ہیں۔ انہوں نے اس بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تکفین کی، نماز جنازہ ادا کی اور اسے دفن کر دیا ۔
جب وہ جانے لگے تو میں نے ان سے پوچھا: ''یہ بزرگ کون تھے اوران کا نام کیا تھا؟'' انہوں نے بتایا :'' ان کانام شیبان المُصاب علیہ رحمۃ اللہ الوھاب ہے۔''اِتنا کہنے کے بعد وہ تمام صالحین وہاں سے چلے گئے ۔
حضرت سیدناسالم علیہ رحمۃ اللہ الدائم فرماتے ہیں کہ میں نے اہلِ شام سے حضرت سیدناشیبان المصاب علیہ رحمۃ اللہ الوہاب کے متعلق پوچھا: ''انہوں نے بتا یا کہ لوگ انہیں دیوانہ سمجھتے تھے اور بچے انہیں پاگل سمجھ کر تنگ کرتے اور پتھر مارتے اسی لئے وہ یہاں سے چلے گئے اور پہاڑوں میں مشغولِ عبادت ہو گئے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں بھی اپنا قرب ِخاص عطا فرما ، دنیا کی محبت سے بچا کر اپنی محبت کی لازوال