میری اس حالت کو دیکھ کر اس عظیم بوڑھی عورت نے کہا :''اے عثمان!اللہ ربُّ العزَّت اپنی حکمت کے چشمے ،اپنی معرفت کی دولت اور اپنی پوشیدہ محبت نالائقوں کو عطا نہیں فرماتا ، وہ نالائقوں اور نا اہلوں سے یہ تمام نعمتیں دور رکھتا ہے ۔''
میں نے اس عظیم عورت سے عرض کی :'' آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ عزوجل مجھے اپنی سچی محبت عطا فرمائے۔'' کچھ دیرکے بعد میں نے پھر اس عورت سے دعا کے لئے عرض کی تو اس نے کہا:'' اے عثمان!وہ پاک پر وردگار عزوجل تو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے، وہ اپنے چاہنے والوں کے دلو ں سے باخبر ہے کہ کون اس سے کتنی محبت کرتا ہے اور کون اس کی محبت کا طالب ہے؟اے عثمان!تم اپنے مطلوبہ کام کے لئے جاؤ ، خدا عزوجل کی قسم! اگر مجھے اپنی معرفت کے سَلب ہوجانے کا خوف نہ ہوتا تو ایسے ایسے عجائبات ظاہر کرتی کہ تُو حیران رہ جاتا۔''پھر اس نے ایک آہِ سرد دلِ پر درد سے کھینچی اور کہنے لگی:''اے عثمان ! جب تک تم خود اللہ عزوجل کی محبت کے لئے نہیں تڑپو گے اس وقت تک تمہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا اور تمہیں غم سے اس وقت تک تسکین حاصل نہیں ہوگی جب تک تم خود نہیں چاہو گے۔ بندہ ہمیشہ اپنی سچی طلب اور شوقِ کا مل سے اپنی منزل کو پاتا ہے ۔''
اِتنا کہنے کے بعد وہ عظیم عورت وہا ں سے رخصت ہوگئی ۔ حضرت سیدنا عثمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں: ''جب بھی مجھے اس بوڑھی عورت کی وہ باتیں اور ملاقات یا د آتی ہے تو مَیں بے اختیاررونے لگتا ہوں اور مجھ پر غشی طاری ہوجاتی ہے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
(اے اللہ عزوجل! ہمیں اپنی دائمی محبت عطا فرما اور اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمالے۔اے اللہ عزوجل !تجھے تیرے ان اولیاء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا واسطہ جن کے دلوں میں تیری محبت کی شمعیں روشن ہيں اور وہ ہر وقت تیری محبت میں گم رہتے ہیں تُوہمیں اپنی محبت وولایت کی خیر ات سے مالا مال کردے۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
؎ محبت میں اپنی گُما یا الٰہی عزوجل ! نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الٰہی عزوجل !
تُو اپنی ولایت کی خیرات دے دے میرے غوث کا واسطہ یا الٰہی عزوجل!