سنیں، اتنی ہی دیر میں مزدور کفن خرید لایا، میں نے وہ کفن لیا اور کہا:'' میں ایسے بدنصیب شخص کی ہر گز تجہیز وتکفین نہیں کرو ں گا جو شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کاگستا خ ہو، تم اپنے ساتھی کو سنبھالو میں اس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔''
اِس کے بعد میں وہاں سے واپس چلا آیا پھر مجھے بتا یا گیا کہ اس کے بدعقیدہ ساتھیوں نے ہی اسے غسل و کفن دیا اور ان چند بندوں ہی نے اس کی نماز جنازہ پڑھی،ان کے علاوہ کسی نے بھی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی، اس کے بدعقیدہ ساتھیوں کی بدبختی دیکھو کہ وہ پھر بھی لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے ہمارے ساتھی کی نماز جنازہ میں شرکت کیوں نہیں کی؟
حضرت سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناابوالحصیب علیہ رحمۃ اللہ اللطیف سے پوچھا: ''کیا تم اس واقعے کے وقت وہاں موجود تھے ؟ ''انہوں نے جواب دیا :'' جی ہاں! میں نے اپنی آنکھوں سے اس بدبخت کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس کی باتیں سنیں۔''
یہ سن کرحضرت سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم نے فرمایا: ''اب میں بھی اس بے ادب وگستاخ شخص کی اس بد ترین حالت کی خبر لوگو ں کو ضرور دو ں گا۔
( اللہ عزوجل ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سے محفو ظ رکھے اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سچی محبت عطا فرمائے،ان کی خوب خوب تعظیم کرنے کی تو فیق عطافرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
؎؎ محفو ظ سدا رکھنا شہا بے ادبو ں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
صحابہ کا گدا ہوں اور اہل بیت کا خادم یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم!