Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
240 - 410
چپکے سے اس کے پیچھے ہولیا ۔ وہاں جاکر اس نے ریت اٹھائی اور اس تھیلے میں ڈالنے لگا پھر تھیلے کو ہلایا او راس میں موجود ریت ملے ہوئے پانی کو پینے لگا ۔ میں اس کے قریب گیا اورسلام عرض کیا ۔اس نے جواب دیا ۔

     پھرمیں نے کہا :''اے نیک سیرت نوجوان ! جو رزق اللہ عزوجل نے تجھے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی عطا کر ۔'' یہ سن کر اس نوجوان نے کہا:''اللہ عزوجل اپنے بندو ں پر ہر وقت فضل وکر م فرماتا رہتا ہے، کوئی آن ایسی نہیں گزرتی جس میں وہ پاک پر وردگار عزوجل اپنے بندوں پر نعمتیں نازل نہ فرماتا ہو، اے شفیق !اپنے رب عزوجل سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہے ۔'' اِتنا کہنے کے بعد اس نوجوان نے وہ چمڑے کا تھیلا میری طر ف بڑھایا جیسے ہی میں نے اس میں سے پیا تو وہ شکر اور خالص ستو ملا ہوا بہترین پانی تھا۔ ایسا خوش ذائقہ پانی میں نے آج تک نہ پیا تھا، میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا ۔

    میں حیران تھا کہ ابھی میرے سامنے اس تھیلے میں ریت ڈالی گئی ہے لیکن اس نوجوان کی برکت سے وہ ریت ستو او رشکر میں بدل گئی ہے ،وہ پانی پینے کے بعد کئی دن تک مجھے پانی اور کھانے کی طلب نہ ہوئی۔

     پھر ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا وہاں میں نے اسی نوجوان کو ایک کونے میں آدھی رات کو نماز کی حالت میں دیکھا ۔وہ بڑے خشو ع و خضوع سے نماز پڑھ رہا تھا، آنکھوں سے سیلِ اَشک رواں تھا۔ اس نے اسی طر ح نماز کی حالت میں ساری رات گزاردی پھر جب فجر کا وقت ہوا تو وہ اپنے مصلّے پر ہی بیٹھ گیا اور اللہ عزوجل کی حمد وثنا کرنے لگا ، فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اس نے طواف کیااور ایک جانب چل دیا میں بھی اس کے پیچھے ہولیا ۔ اس مرتبہ میری نظروں کے سامنے ایک حیران کُن منظر تھا، اس نوجوان کے اِرد گر د کئی خُدام ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور لوگ جوق در جوق اس کی دست بوسی اور سلام کے لئے حاضرہو رہے تھے ۔میں یہ حالت دیکھ کر حیران وپریشان کھڑا تھا۔

    پھر میں نے ایک شخص سے پوچھا :'' یہ عظیم نوجوان کون ہے؟'' اس نے جواب دیا: ''یہ حضرت سیدنا موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔''میں نے کہا:'' اتنی کرامات کا ظاہر ہونا اس سید زادے کی شان کے لائق ہے ،یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ عزوجل اتنی کرامات سے نواز تا ہے ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)

؎ تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا                      تُو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا