| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''مجھے اس دولت کی کوئی حاجت نہیں، اسے فوراًمجھ سے دور کر لے ،اللہ عزوجل بروزِ قیامت تجھ سے وزن کودور کرے۔'' محمد بن سلمان نے پھر کہا : ''حضور! اور کوئی حاجت ہو تو ارشاد فرمائیں ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اگر کوئی ایسی چیز ہے جس میں دین کا نقصان نہیں تووہ لے آ ۔'' محمد بن سلمان نے کہا:''اگرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ رقم اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تو اپنے دستِ مبارک سے فقراء میں تقسیم کردیں۔'' حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرمانے لگے: ''اگر مَیں یہ رقم لوگوں میں تقسیم کروں او رخوب عدل وانصاف سے کام لوں لیکن پھر بھی اگر کسی حق دار کو اس کاحق نہ ملا اور اس نے بد گمانی کرتے ہوئے یہ کہہ دیاکہ میں نے عدل وانصاف سے کام نہیں لیا تو ایسا شخص گناہ گار ہوگا ۔ لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ تویہ مال ودولت مجھ سے دور لے جا،اللہ عزوجل بر وزِ قیامت تیرے وزن کو ہلکا فرمائے۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر113: تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
حضرت سیدناشفیق بن ابراہیم بلخی علیہما رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ میں حج کے اِرادے سے سفر پر روانہ ہوا۔ مقام قادسیہ میں ہمارا قافلہ ٹھہرا ۔وہاں او ربھی بہت سے عا زمِینِ حرمینِ شریفین موجود تھے،بہت سہانا منظر تھا ،بہت سے حجاج کرام وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ یہ خوش قسمت لوگ سفر وہجرکی صعو بتیں بر داشت کر کے اپنے رب عزوجل کی رضاکی خاطر حج کرنے جارہے ہیں ۔میں نے اللہ عزوجل کی بار گا ہ میں عرض کی :'' اے میرے پروردگار عزوجل! یہ تیرے بندو ں کا لشکر ہے، انہیں ناکام نہ لوٹابلکہ حج قبول فرماتے ہوئے کامیابی کی دولت سے ہمکنار فرما۔''
دعا کے بعد میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جس کے گندمی رنگ میں ایسی نورانیت تھی کہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹتی ہی نہ تھیں۔اس نے اُون کا لباس زیبِ تن کیاہوا تھا اورسر پر عمامہ سجایا ہوا تھا۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دل میں شیطانی وسوسہ آیا کہ یہ اپنے آپ کو صوفی ظاہر کرنا چاہتاہے تا کہ لوگ اس کی تعظیم کریں اوراسے اپنے قافلے کے ساتھ حج کے لئے لے جائیں۔ یہ خیال آتے ہی میں نے دل میں کہا : ''اللہ عزوجل کی قسم!میں ضرور اس کی نگرانی کرو ں گا اور اسے ملامت کروں گا کہ اس طر ح کا بناوٹی اندازدرست نہیں۔'' چنانچہ میں اس نوجوان کے قریب گیاجیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا،