سن کر شہزادی بولی :'' کیا تُو مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے۔ پھر اس نے خادمہ سے کہا:'' اس کے لئے محل کی چھت پر وضو کا برتن لے جاؤ تا کہ یہ فرار نہ ہوسکے ۔''
چنانچہ اس نوجوان کو چھت پرلے جایا گیا۔ محل کی چھت سطح زمین سے تقریباً 40گز اونچی تھی جس سے چھلانگ لگانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جب نوجوان چھت پر پہنچ گیا تو اس نے اپنے پاک پرورد گار عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: ''اے اللہ عزوجل !مجھے تیری نافرمانی پر مجبور کیا جارہاہے اورمَیں اس برائی سے بچنا چاہتا ہوں ، مجھے یہ تو منظور ہے کہ اپنے آپ کو اس بلند و بالا چھت سے نیچے گرا دوں لیکن یہ پسند نہیں کہ میں تیری نافرمانی کر وں۔''
چنانچہ اس نے بِسْمِ اللہِ شریف پڑھ کر چھت سے چھلانگ لگادی ۔ اللہ عزوجل نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے اس نوجوان کو بازو سے پکڑا او رزمین پر بڑے سکون سے اُتا ر دیا اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہوئی نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:'' اے میرے پاک پرور دگار عزوجل !اگر تُوچاہے تومجھے ان ٹوکریوں کی تجارت کے بغیر بھی رزق عطا فرماسکتا ہے۔ اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے اس تجارت سے بے نیاز کر دے ۔'' جب اس نے یہ دعا کی تو اللہ ربُّ العزَّت نے اس کی طرف ایک بوری بھیجی جو سونے سے بھری ہوئی تھی ۔ اس نے بوری سے سونا بھرنا شرو ع کردیا یہا ں تک کہ اس کی چادر بھر گئی ۔پھر اس عظیم نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:'' اے اللہ عزوجل !اگر یہ اسی رزق کا حصہ ہے جو مجھے دنیا میں ملنا تھا تو اس میں برکت عطا فرما او راگر یہ اس اَجر کا حصہ ہے جو مجھے آخرت میں ملنا ہے اور اس کی وجہ سے میرے آخرت کے اَجر میں کمی ہوگی تو مجھے یہ دولت نہیں چاہے۔''
جب اس نوجوان نے یہ کہا تو اسے ایک آواز سنائی دی :'' یہ جو سونا تجھے عطا کیا گیا ہے یہ اس اَجر کا پچیسواں حصہ ہے جو تجھے اس گناہ سے صبر کرنے پر ملا ہے ۔''تو اس عظیم نوجوان نے کہا:'' اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے ایسے مال کی حاجت نہیں جو میرے آخرت کے خزانے میں کمی کا با عث بنے۔'' جب نوجوان نے یہ بات کہی تو وہ سارا سونا غائب ہوگیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)