توڑ کر لاؤ ۔'' یہ سن کر میں نے اپنی ٹوکری اُٹھائی اور ایک بیل سے کافی انگور لاکر اس با غ کے مالک کے سامنے رکھ دیئے۔ جب اس نے انگور کا دانہ کھایا تو وہ کھٹا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا :'' اے با غبان !تجھ پر افسوس ہے، کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تُواتنے دنوں سے اس با غ میں کام کر رہا ہے او رابھی تک تجھے کھٹے اور میٹھے انگوروں کی پہچا ن نہ ہو سکی حالانکہ تُو یہاں سے انگور وغیرہ خوب کھاتا ہوگا ۔''
میں نے کہا:'' اللہ عزوجل کی قسم! میں نے آج تک اس با غ سے انگور کا ایک دانہ بھی نہیں کھایا، پھر مجھے کھٹے او رمیٹھے انگوروں کی پہچان کس طر ح حاصل ہوسکتی ہے، مجھے تو صرف اس باغ کی دیکھ بھال کے لئے خادم رکھا گیا تھا ،لہٰذا میں دیکھ بھال توکرتا رہا لیکن اس با غ میں سے انگور کا ایک دانہ بھی نہ کھا یا ۔''
حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے یہ جواب سن کربا غ کا مالک اپنے دوستوں کی طر ف متوجہ ہوا او رکہنے لگا: ''تمہاری کیا رائے ہے ؟کیا اس سے بھی زیادہ کوئی عجیب بات ہوسکتی ہے کہ ایک شخص اتنے عرصہ تک با غ میں رہے اور پھر اِتنی ایمانداری سے رہے کہ وہاں سے ایک دانہ بھی نہ کھائے ؟یہ شخص تو ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طر ح متقی او رپر ہیزگا ر معلوم ہوتا ہے (اس با غ والے کو معلوم نہ تھا کہ یہی حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں)حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' پھر میں اپنے کام میں لگ گیا اوربا غ کامالک وہاں سے رخصت ہوگیا ۔''
دوسرے دن میں نے دیکھا کہ آج پھر باغ کامالک بہت سارے لوگوں کے ساتھ باغ کی طرف آرہاہے ۔ مَیں سمجھ گیا کہ میرے اس و اقعہ کی خبر اس نے لوگوں کو دی ہوگی اس لئے لوگ مجھے ملنے آرہے ہیں ۔ چنانچہ میں چھپ کر با غ سے نکل گیا، وہ لوگ با غ میں داخل ہوئے ،ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ وہ مجھے باغ میں تلاش کرتے رہے لیکن میں انہیں نہ ملا،مَیں وہاں ہوتا تو انہیں ملتا میں تو وہاں سے باہرآگیا تھا ۔ وہ لوگ کافی دیر تک مجھے ڈھونڈتے رہے بالآخر تھک ہار کر واپس چلے گئے اور میں نے کسی سے بھی ملاقات نہ کی۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل ! تقوی ہو تو ایسا کہ اتنا عرصہ با غ میں رہنے کے با وجود بھی وہاں سے کوئی چیز نہ کھائی حالانکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اگر وہاں سے انگور کھاتے تو مالک کوکوئی اعتر اض نہ ہوتا لیکن یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کمال درجہ احتیاط تھی۔ اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی تقوی وپرہیز گا ری کی دولت سے مالا مال فرمائے اور رزقِ حرام سے بچنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
رہوں مست وبے خود میں تیری ولا میں پلا جام ایسا پلا یاالٰہی