کرتا ہوں ۔ اے اللہ عزوجل !موت سے پہلے مجھے اپنی رضا کا مژدہ سنادے او رمجھے اپنے عفو وکرم کی ایک جھلک دکھادے۔''
حضرت سیدنامالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی یہ رِقّت انگیز مناجات سن کر مَیں اپنی منزل کی طرف لوٹ آیا۔ پھر جب رات کو نیند آئی تو دل کی آنکھیں کھل گئیں ۔مجھے خواب میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت ہوئی ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے مالک بن دینار! تُو لوگوں کو اللہ کی رحمت اور اس کے عفووکرم سے مایوس مت کر۔'' بے شک اللہ عزوجل محمد بن ہرون کے افعال سے باخبر ہے اور اللہ عزوجل نے اس کی دعا قبول فرما کر اس کی لغزشوں اور خطاؤں کو معاف فرمادیا ہے تُو صبح اس کے پاس جانا اور اس سے کہنا :''بے شک اللہ عزوجل بر وز قیامت میدانِ محشر میں تمام اولین وآخرین کو جمع فرمائے گا ۔اگر کسی سینگ والے جانور نے بغیرسینگ والے جانور کو مارا ہوگا تو اس کو بدلہ دلوائے گا او ر ذرے ذرے کا حساب لے گا۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! مَیں ذرے ذرے کا حساب لوں گا اور اگر کسی نے ذرہ بھر بھی ظلم کیا ہوگا تو مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلواؤں گا ۔ اے ابن ہرو ن! کل بر وزِ قیامت اللہ عزوجل تجھے اور تیری ماں کو اکٹھا کریگا اور تیرے بارے میں فیصلہ ہوگا ۔فرشتے تجھے مضبوط زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف دھکیل دیں گے پھر تُو دنیوی تین دن اور تین رات کے برابر جہنم کی آگ کا مزہ چکھے گا کیونکہ اللہ عزوجل فرما تا ہے:'' میں نے اپنے اُوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ میرا جو بندہ بھی ناحق کسی جان کو قتل کریگا یا شراب پئے گا تو میں اسے جہنم کی آگ کا مزہ ضرورچکھاؤں گا اگر چہ وہ کیسا ہی بر گزیدہ کیوں نہ ہو۔'' اے ابن ہرون !پھر اللہ عزوجل تیری ماں کے دل میں تیرے لئے رحم ڈالے گا او راس کے دل میں یہ بات ڈال دے گا کہ وہ اللہ عزوجل سے سوال کرے کہ:'' اے اللہ عزوجل ! تُو میرے بیٹے کو بخش دے ۔'' پھر اللہ عزوجل تجھے، تیری والدہ کے حوالے کردے گا، تیری والدہ تیرا ہاتھ پکڑ کر تجھے جنت میں لے جائے گی ۔''
حضرت سیدنا مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' جب صبح ہوئی تو میں فوراًا بن ہرون کے پاس گیا اور اسے بشارت دی کہ آج رات خواب میں مجھے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے تیرے بارے میں اس طر ح بتا یا ہے پھر میں نے اسے اپنا پورا خواب سنایا ۔ خدا عزوجل کی قسم! میراخواب سن کر وہ جھوم اُٹھا اور اس کی روح اس طر ح آسانی سے اس کے تن سے جدا ہوئی جیسا کہ پتھر کو جب پانی میں ڈالاجائے تو وہ آسانی سے نیچے کی جانب چلا جاتا ہے۔پھر اس کی تجہیز و تکفین کاانتظام کیا گیا اور میں نے اس کے جنازہ میں شرکت کی ۔ ''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ تعالی عليہ وسلم)