میراوہ سیدزادہ دوست جیسے ہی اپنے گھرپہنچاتواس کے پاس میراوہی تاجردوست آیااوراس سے کہا:''میں ان دنوں بہت تنگ دستی کاشکارہوں،مجھے کچھ رقم اُدھاردے دو۔''یہ سن کراُس سیدزادے نے وہ رقم کی تھیلی میرے اس تا جردوست کودے دی جو میں اسی(تاجر)سے لے کرآیاتھا،جب میرے اس تاجردوست نے وہ رقم کی تھیلی دیکھی توفوراًپہچان گیااورمیرے پاس آکرپوچھنے لگا:''جورقم تم مجھ سے لے کرآئے ہو،وہ کہاں ہے؟''میں نے اسے تمام واقعہ بتایاتووہ کہنے لگا:''اِتِّفاق سے وہی سیدزادہ میرابھی دوست ہے،میرے پاس صرف یہی بارہ سودرہم تھے جومیں نے آپ کودے دیئے،آپ نے اس سیدزادے کودیئے اوراس نے وہ مجھے دے دیئے اس طرح ہم میں سے ہرایک نے اپنے آپ پردوسرے کوترجیح دی اوردوسرے کی خوشی کی خاطراپنی خوشی قربان کردی۔''
ہمارے اس واقعے کی خبر کسی طر ح حاکمِ وقت یحییٰ بن خالد بر مکی کوپہنچ گئی، اس نے فوراً اپنا قاصد بھیجا جس نے میرے پاس آکر یحییٰ بن خالد بر مکی کا پیغام دیا: ''مَیں اپنی کچھ مصروفیات کی بناء پر آپ کی طرف سے غافل رہااور مجھے آپ کے حالات کے بارے میں پتہ نہ چل سکا، اب میں غلام کے ہاتھ دس ہزار دیناربھیج رہا ہوںـ، ان میں سے دو ہزار آپ کے لئے،دو ہزار آپ کے تا جر دوست کے لئے اور دوہزار اس سید زادے کے لئے باقی چار ہزار دینا ر تمہاری عظیم وسعادت مند بیوی کے لئے کیونکہ وہ تم سب سے زیادہ غنی،افضل اور عشق رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیکر ہے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
(اے ہمارے پر وردگارعزوجل!ہمیں بھی ان پاکیزہ او رنیک سیرت لوگوں کے صدقے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوب خیر خواہی کرنے کاجذبہ عطا فرمااور مل جل کر دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)