آنکھ کھلی تو سب حیران ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے :'' رات تو ہم نے عجیب وغریب خواب دیکھا ہے ۔''پھرسب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا ،بڑا بھائی کہنے لگا :''یہ محض ایک جھوٹا خواب ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، لہٰذا اسے ذہن سے نکال دو۔'' چھوٹے بھائی نے کہا : ''میں اس کی ضرورتحقیق کرو ں گا اورضرور اس جگہ کو کھود کر دیکھو ں گا ۔''
چنانچہ وہ تینوں بھائی اسی مکان میں پہنچے اور جب اس جگہ کو کھود ا جس کی شیطان نے نشاندہی کی تھی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ان کی بہن اور ایک بچہ ذبح شدہ حالت میں موجود ہیں۔ چنانچہ وہ اس بد بخت عا بد کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا: '' سچ سچ بتا تُو نے ہماری بہن کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ ''عا بد نے جب ان کا غصہ دیکھا تو اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا اور سب کچھ بتا دیا۔ چنانچہ وہ تینوں بھائی اسے پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں لے گئے، بادشاہ نے ساری بات سن کر اسے پھانسی کا حکم دے دیا ۔
جب اس بدبخت عابد کو پھانسی دی جانے لگی تو شیطان مردو د اپنا آخری وار کرنے پھر اس کے پاس آیا اور اسے کہا:'' میں ہی تیرا وہ ساتھی ہوں جس کے مشوروں پر عمل کر کے تو عورت کے فتنے میں مبتلا ہوا ،پھر تُو نے اسے اور اس کے بچے کوقتل کر دیا، ہاں! اگر آج تُو میری بات مان لے گا تو میں تجھے پھانسی سے رہائی دلوا دو ں گا۔'' عا بد نے کہا: ''اب تومجھ سے کیا چاہتا ہے؟ ''شیطان لعین بولا: ''تُواللہ عزوجل کی وحدانیت کا اِنکار کردے اور کافر ہوجا،اگر تُوایسا کریگا تو میں تجھے آزاد کرو ا دوں گا ۔''یہ سن کر کچھ دیر تو عا بد سوچتا رہا لیکن پھر دنیاوی عذاب سے بچنے کی خاطر اُس نے اپنی زبان سے کفر یہ کلمات بکے اور اللہ عزوجل کی وحدانیت کا منکر ہوگیا (والعیاذ باللہ تعالیٰ) ۔جب شیطان ملعون نے اس بدبخت عابد کا ایمان بھی بر باد کروا دیاتو اُسے حالتِ کفر میں پھانسی دے دی گئی اور وہ فوراََاپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے غائب ہوگیا۔''
شیطان کی شیطانیت کے بارے میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے :