Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
151 - 410
حاضر ہوا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا :'' کیا تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے ؟'' میں نے کہا : ''میں علیٰحدگی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں، پھر میں نے کہا:''میں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔''جیسے ہی انہوں نے یہ سنا تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ کانپ رہے ہوں، میں نے کہا؛انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ'' ہم تو کھجوریں کھاکراور پانی پی کر گزارہ کر لیتے ہیں ، زندگی ہماری بھی گزرر ہی ہے اور تمہاری بھی۔''اتنا سننا تھاکہ حضرت سیدناعبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا منہ چادر میں چھپایا اور اتنا روئے کہ چادر آنسوؤں سے تر ہوگئی۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر65:         روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں
Flag Counter