| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
وہی ہوں ۔''پھر میں نے پوچھا:'' تمہیں یہ عظیم الشان مرتبہ کیسے ملااورتمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ ''یہ سن کر وہ کہنے لگا: ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!مجھے میرے رب عزوجل نے ان لوگو ں کے ساتھ جنت میں مقام عطا فرمایا ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور جب انہیں کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتے ہیں ۔''
حضرت سیدنا امام اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' میں نے جب سے اس بزرگ سے یہ واقعہ سنا ہے تب سے میں اہل مصیبت سے بہت زیادہ محبت کرنے لگا ہوں۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)حکایت نمبر63: قدرت کا کرشمہ
حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگو ں کے درمیان جلوہ فرماتھے کہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا : ''جتنی مشابہت ان دونوں میں پائی جارہی ہے میں نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں نہیں دیکھی۔''یہ سن کر اس شخص نے عرض کی : ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' پوراواقعہ بیان کرو۔'' وہ شخص عرض کرنے لگا:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی،میں نے جاتے وقت دعا کی :''اے اللہ عزوجل! میری زوجہ کے پیٹ میں جو حمل ہے میں اُسے تیرے حوالے کرتاہوں، تُوہی اس کی حفاظت فرمانا۔ ''
یہ دعا کر کے میں جہاد کے لئے روانہ ہوگیا جب میں واپس آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے ،مجھے بہت افسوس ہوا ۔ایک رات میں نے اپنے چچا زاد بھائی سے کہا :''مجھے میری بیوی کی قبر پر لے چلو۔'' چنا نچہ ہم جنت البقیع میں پہنچے اور اس نے میری بیوی کی قبر کی نشاندہی کی۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قبر سے روشنی کی کرنیں باہر آرہی ہیں۔میں نے؎مصیبت میں کبھی حرف شکایت لب پہ مت لانا مصائب میں خدا عزوجل بندو ں کو اپنے آزماتا ہے زباں پر شکوٰہ رنج و الم لایا نہیں کرتے نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے