پھر اس بزرگ نے مجھ سے فرمایا:'' اب میں کسی کام سے جارہاہوں اور رات کے فلاں حصے میں تم مجھے فلاں جگہ ملنا۔''اتناکہنے کے بعد وہ بزرگ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے پھر جب میں مقررہ وقت پر اس جگہ پہنچاتو دیکھا کہ وہ وہاں مجھ سے پہلے ہی موجودہیں اور نمازمیں مشغول ہیں۔نماز سے فراغت کے بعد انہوں نے میراہاتھ پکڑا اور کہا:''چلو اب'' مکہ مکرمہ'' کی طرف چلتے ہیں۔'' ہم نے چلناشروع کردیا اورتھوڑی ہی دیر بعدہم'' مکہ مکرمہ'' کی مشکبار فضاؤں میں سانس لے رہے تھے۔'' اب اس بزرگ نے فرمایا :'' اے ابراہیم! اب تم مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہو،اب میں تم سے جدائی چاہتاہو ں ۔''یہ سنتے ہی میں نے ان کادامن تھام لیااور عرض کی:'' میں آپ کی صحبتِ بابرکت سے مزید فیضیاب ہوناچاہتا ہوں۔''اس عظیم بزرگ نے فرمایا: ''میں ملک شام جانا چاہتاہوں۔'' میں نے کہا:''حضور!مجھے بھی اپنی رفاقت میں شام لے چلیں۔'' فرمانے لگے:'' جب تم حج مکمل کرلو تو مجھے بِیر زمزم کے پاس ملنا،میں وہیں تمہاراانتظار کروں گا۔''اتناکہنے کے بعد وہ بزرگ وہاں سے تشریف لے گئے اور میں حسرت بھری نگاہوں سے ان کو دیکھتارہا۔جب میں فریضہ حج ا دا کرچکاتو مقررہ وقت پربیرزمزم کے پاس پہنچا۔ وہ عظیم بزرگ وہاں میرے منتظر تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے میر اہاتھ پکڑا اور ہم نے خانہ کعبہ کاطواف کیا،پھر ہم مکہ مکرَّمہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔
ہم جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو اس بزرگ نے ایک مقام پر پہنچ کر پہلے ہی کی طرح مجھ سے فرمایا:''تم یہاں میراانتظار کرنامیں فلاں وقت تمہیں یہیں ملوں گا۔'' وہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گئے اسی طرح انہوں نے تین مرتبہ کیاپھر ہمیں بہت جلد شام کی سرحدیں نظر آنے لگیں۔ ہم بہت ہی قلیل وقت میں مکہ مکرمہ سے شام پہنچ گئے ۔وہ بزرگ مجھے لے کر ''بیت المقدس '' پہنچے اور مسجدمیں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمانے لگے:'' اے اللہ عزوجل کے بندے! یہی میری رہائش گاہ ہے۔ اب ہماری جدائی کاوقت آ گیاہے، اللہ عزوجل تجھے اپنی حفظ وامان میں رکھے اور تم پر سلامتی ہو۔''
اس کے بعدوہ بزرگ اچانک میری نظروں سے غائب ہوگئے ۔میں نے ان کوبہت تلاش کیا لیکن مجھے وہ نہ مل سکے اور نہ ہی ان کے متعلق کسی سے کوئی معلومات مل سکیں اور میں یہ بھی نہ جا ن سکاکہ جس عظیم ہستی کی کچھ دنوں کی صحبت نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی، میرے دل سے دنیاکی محبت ختم کردی میرے اس محسن کانام کیاہے۔ میں اس کے نام سے بھی ناواقف رہاپھر میں اپنے دل میں اس بزرگ کی جدائی کاغم لئے شام سے بلخ کی طرف روانہ ہوااوراب میں اس سفر کو بہت طویل محسوس کررہاتھااور میراواپسی کاسفر مجھ پر بہت سخت ہوگیا تھا مجھے اس بزرگ کی رفاقت میں گزرے ہوئے نورانی لمحات بار با ریاد آرہے تھے۔ بالآخر میں سفر کی کافی صعوبتیں برداشت کر کے کئی دنوں کے بعد اپنے شہر بلخ پہنچا۔