Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
128 - 410
دیتے ہوئے کہا: ''اللہ عزوجل آپ کو میری طرف سے اچھا بد لہ عطا فرمائے، خدا عزوجل کی قسم! آپ نے جس مردِ قلندر کو میرا رفیق بنایا مجھے ان میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کے جلوے نظر آتے تھے، انہوں نے حقِ صحبت خوب ادا کیا۔وہ خود تنگ دست ہونے کے باوجود مجھ پر خرچ کرتے رہے حالانکہ میں اپنے ساتھ بہت سارا زادِراہ لے گیا تھا مگر وہ مجھ پر اپنے زادِراہ سے خرچ کرتے رہے،میں جوان تھا اور وہ ضعیف العمر ۔لیکن پھر بھی انہوں نے میری خدمت کی ۔وہ میرے لئے کھانا تیار کرتے اور مجھے کھلاتے اور خود سارا دن روزہ رکھتے، اللہ رب العزت انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔(آمین)

    میں نے اپنے دوست سے پوچھا:''آپ خوف زدہ تھے کہ وہ روتے بہت زیادہ ہیں، اس کا کیاہوا؟ کیا تمہیں ان کے رونے سے پریشانی نہیں ہوئی ؟''و ہ کہنے لگا:''خدا عز وجل کی قسم! مجھے ان سے محبت ہوگئی اوران کے رونے کی وجہ سے مجھے قلبی سکون ملتااورمیں بھی ان کے ساتھ رویاکرتاتھا۔پھرابتداء ً توہمارے رونے کی وجہ سے دوسرے رفقاء کوپریشانی ہوئی لیکن پھر وہ بھی ہم سے مانوس ہوگئے پھر ایسا ہوتا کہ ہمیں روتادیکھ کر وہ بھی روناشروع کردیتے اوران سب نے ہم سے پیارومحبت بھرا سلوک کیااورجب ہم روتے تو ہمارے رفقاء بھی یہ کہتے ہوئے رونے لگتے :'' جس غم نے انہیں رُلایاہے وہ سفرِ آخرت کاغم توہمیں بھی لاحق ہے پھر ہم کیوں نہ روئیں لہٰذا وہ بھی ہمارے ساتھ رونے لگتے ۔الحمدللہ عزوجل !ہمارایہ سفر بہت اچھارہا۔اللہ عزوجل آپ کوجزاء خیر عطا فرمائے۔

     پھر میں سیدنابہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیااوران سے پوچھا:'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے رفیق کو کیساپایا؟''وہ فرمانے لگے :''الحمدللہ عزوجل! وہ بہت اچھے رفیق ثابت ہوئے، وہ اللہ عزوجل کاذکر کثرت سے کرنے والے، قرآن پاک کی بہت زیادہ تلاوت کرنے والے، بہت جلد رودینے والے اوراپنے ہم سفر کی لغزشوں سے درگزرکرنے والے تھے۔''



(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)