Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
126 - 410
حکایت نمبر51:                  سفرہوتوایسا، رفیقِ سفر ہوتوایسا
    حضرت سیدنا محمد بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، حضرت سیدنا مخول نے مجھے بتایا کہ'' ایک مرتبہ حضرت سیدنا  بہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرے پا س آئے اور مجھ سے فرمانے لگے :''میرا حج کا ارادہ ہے ، اگر تمہارے علم میں کوئی ایسا شخص ہے جو حج کا ارادہ رکھتاہوتومجھے اس کے بارے میں بتاؤ تاکہ ہم دونوں سفرِحج پرروانہ ہوں اور ایک دوسرے کی رفاقت میں حج کی سعادت حاصل کریں۔'' میں نے حضرت سیدنابہیم (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)سے عرض کی:''ہمارے پڑوس میں ایک دین دار اور بہت نیک شخص رہتا ہے وہ بھی حج کاارادہ رکھتاہے، آیئے میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی اس سے ملاقات کر ادیتا ہوں۔چنانچہ میں انہیں اپنے اس دوست کے پاس لے گیا اور اسے صورت حال سے آگاہ کیاتو وہ تیار ہو گیا اور کہا:''ان شاء اللہ عزوجل ہم ایک ساتھ سفرِ حج پر روانہ ہوں گے۔

     پھر ہم وہاں سے چلے آئے اور حضرت سیدنا بہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ کچھ ہی دنوں بعد میرا وہی دوست میرے پاس آیا اورکہنے لگا :'' میں یہ  چاہتا ہوں کہ جس شخص کو آپ نے میرا رفیق بنایا ہے آپ اسے میرا رفیق نہ بنائیں بلکہ اس کے لئے کوئی اور رفیق تلاش کر لیں ،میں اس کے ساتھ سفر نہیں کر سکتا۔'' جب میں نے یہ سنا تو اپنے اس دوست سے کہا: ''تجھ پر افسوس ہے! آخر کیوں تو اس کے ساتھ سفر کرنے کو تیار نہیں؟ خدا عزوجل کی قسم !پورے کوفہ میں میرے نزدیک ان سے بڑھ کرکوئی متقی و پر ہیز گار نہیں ،میں نے ان کے ساتھ کئی سمندری اور صحرائی سفرکئے ہیں، میں نے ان میں ہمیشہ بھلائی اور خیر ہی کو پایا اور تم ہو کہ ان کی رفاقت سے محروم رہنا چاہتے ہو، آخر وجہ کیا ہے؟'' وہ کہنے لگا:'' مجھے خبر ملی ہے کہ جسے آپ میرا رفیق بنانا چاہتے ہیں وہ تو ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں اور انہیں رونے سے کبھی فرصت ہی نہیں ملتی، ہر وقت آہ وبکا کرتے رہتے ہیں، اب آپ ہی بتائیے کہ میں ایسے شخص کے ساتھ سفر کیسے کر سکتا ہوں؟ان کے رونے کی وجہ سے ہمارا سفرخوش گوار نہیں رہے گا اور ہمیں بہت پر یشانی ہوگی ۔''

     میں نے اپنے اس دوست سے کہا :''بعض اوقات انسان وعظ ونصیحت سن کر رو پڑتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے ؟یہ تو رقتِ قلبی کی وجہ سے ہوتا ہے کیاآپ کبھی وعظ ونصیحت سن کر نہیں روئے ؟ ''اس نے کہا:'' یہ تو آپ بجا فرمارہے ہیں لیکن ان کے بارے میں تو مجھے یہ خبر ملی ہے کہ وہ ہر وقت ہی روتے رہتے ہیں اور ان کا رونا بہت طویل ہوتا ہے ۔''

     میں نے کہا :'' آپ اس کی صحبت اختیار کریں، اللہ رب العزت آپ کو اس مرد صالح کے ذریعے بر کتیں عطا فرمائے گا، آپ بے فکر ہو کر ان کے ساتھ سفر کریں۔''چنانچہ میرا وہ دوست تیار ہوگیا اور کہنے لگا:'' ٹھیک ہے، میں ان کے ساتھ سفر کرنے کو تیار ہوں، اللہ ربُّ العزَّت ہمارے اس سفر میں خیر و برکت عطا فرمائے ۔
Flag Counter