کسی گورنر کے بارے میں یہ خبر ملے کہ وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور پھر بھی تو اسے گورنری کے عہدے سے معزول نہ کرے تو یاد رکھ!اگرتو اس طرح کی جرأتیں کریگا تو تجھے جہنم سے بچانے والا کوئی نہ ہو گااورتورسوائی و ذلت کی طرف مائل ہوجائے گا ۔اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے، آمین۔ اور اگر تو ان تمام ظلم وزیادتی والے امور سے اجتناب کرتا رہا تو تجھے دلی سکون حاصل ہوگا اور تو مطمئن رہے گا۔(ان شاء اللہ عزوجل)
اے عمر بن عبدالعزیز (علیہ رحمۃاللہ المجید) !تو نے مجھ سے کہا کہ میں امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت اور ان کے فیصلوں کے متعلق تجھے معلومات فراہم کروں تو اے عمر بن عبد العزیز (علیہ رحمۃاللہ المجید) !امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور کے مطابق فیصلے کئے ۔جیسی ان کی رعایا تھی اب ایسی نہیں ، ان کے فیصلے اس دور کے اعتبار سے تھے اور تم اپنے دور کے اعتبار سے فیصلے کرو، اور اپنے دور کے لوگو ں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ان سے معاملات کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو مجھے اللہ رب العزت سے امید ہے کہ وہ تمہیں بھی امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی مدد و نصرت عطا فرمائے گا اورجنت میں ان کے ساتھ مقام عطا فرمائے گا۔ اور اے عمر بن عبدالعزیز! تم یہ آیتِ مبارکہ پڑھا کرو: