| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
لوگوں سے کہا :'' تم سب لوگ گواہ ہوجاؤ، میرے تمام غلام اور لونڈیاں آج کے بعداللہ عزوجل کی رضا کی خاطرآزادہیں، میری تمام جاگیر اور مال و دولت سب اللہ عزوجل کی راہ میں وقف ہے، میری ملکیت میں چار ہزار دینار ہیں، میں انہیں بھی اللہ عزوجل کی راہ میں وقف کرتا ہوں۔'' پھر اس نے اپنا قیمتی لباس اُتارکر پھینک دیا، اب اس کے پاس صرف ایک شلوار باقی بچی۔ اس نیک بخت رئیس کی یہ حالت دیکھ کر قاضی نے کہا:''میرے پاس دو چادریں موجود ہیں، آپ وہ قبول فرمالیں۔'' چنانچہ قاضی صاحب نے اس رئیس کو وہ دو چادریں دے دیں۔ اس نے ایک کو اوڑھ لیا اور دوسری کو بطورِ تہبند استعمال کیا، لوگ میت سے زیادہ رئیس کی اس حالت پر روئے، پھر وہ نیک بخت رئیس مالکِ حقیقی عزوجل کی رضا کی خاطر اپنی تمام دولت چھوڑ کردائمی نعمتوں کے حصول کے لئے ایک نامعلوم سمت روانہ ہوگیا۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر49 : امیرالمومنین کے نام'' نصیحتوں بھرامکتوب''
ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ المجید نے حضرت سیدنا سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طر ف ایک تحریربھیجی جس کا مضمون کچھ اس طر ح تھا ۔السَّلام علیکم: عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کی طر ف سے آپ پر سلامتی ہو۔
وحدہ، لاشریک ذات جو رحیم و کریم ہے، اس کی حمد وثناء کے بعدعمر بن عبدالعزیزعرض کرتا ہے:''اے سالم بن عبد اللہ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!اللہ ربُّ العزَّت نے اس امت کی حکومت کا بوجھ میرے کندھوں پرڈال دیاہے اور میرے مشورے کے بغیر ہی امورِ خلافت میرے سپرد کردیئے گئے ، میں نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہ کی تھی ، بس اللہ ربُّ العزَّت کی مرضی ،اب اس کے حکم سے مجھے خلافت کی ذمہ داری ملی ہے ۔لہٰذا میں اُمورِ خلافت کے تمام مسائل میں اسی کریم ذات سے مدد طلب کرتا ہوں کہ وہ مجھے اچھے اعمال اور اطاعت کی تو فیق عطا فرمائے اور مجھے مخلوق پر شفقت ونرمی کی تو فیق مرحمت فرمائے ۔ وہی ذات میری مدد کرنے والی ہے، (اے میرے بھائی) جب آپ کے پاس میری یہ تحریر پہنچے تو تو مجھے امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کے متعلق اور ان کے فیصلوں کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرنا اور یہ بتانا کہ انہوں نے مسلمانوں اور ذمیوں کے ساتھ اپنے دورِ خلافت میں کیسا رویہ اختیار کیا؟ میں امور خلافت میں ان کی پیروی کرنا چاہتا ہوں، اللہ عزوجل میری مدد فرمائے گا ۔
والسّلام:من عمر بن عبدالعزیز (علیہ رحمۃ اللہ المجید)