Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
104 - 410
 ''حبیب ۔''فرمایا:'' کیا تم ہی وہ حبیب ہو جن کے متعلق مشہور ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کرتے ، خوش آمدید! تشریف رکھئے ۔''پھر حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفار نے سلام کیا اور جب اپنا نام بتایا تو فرمایا:''مرحبا !مرحبا! اے مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفار! تمہارے ہی متعلق مشہور ہے کہ تم سب سے زیادہ مجاہد ہ کرنے والے ہو۔'' پھر انہیں بھی اپنے پاس بٹھا لیا۔

    پھر میں سلام کے لئے حاضر ہوا ۔جب میرا نام پوچھاتو میں نے اپنا نام بتا یا، فرمانے لگے:'' اچھا! تمہارے ہی متعلق مشہور ہے کہ تم قرآن بہت اچھا پڑھتے ہو ، میری بڑی خواہش تھی کہ تم سے قرآن سنوں: آج مجھے قرآن سناؤ ۔'' حکم ملتے ہی میں نے تلاوت شروع کردی۔ خدا عزوجل کی قسم! ابھی میں تَعَوُّذْ(یعنی اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم) بھی مکمل نہ کر پایا تھا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ جب افاقہ ہوا تو فرمانے لگے:'' اے صالح (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!مجھے قرآن سناؤ۔ ''چنانچہ میں نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی:
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿23﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔(پ19،الفرقان:23)

    جیسے ہی انہوں نے یہ آیت سنی ایک چیخ ماری اور پھر ان کے گلے سے عجیب وغریب آواز آنے لگی اور تڑپنے لگے پھر یکدم ساکت ہوگئے۔ ہم ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ان کی روح قفس عنصری سے پر وا ز کر چکی تھی ، ہم نے لوگو ں سے پوچھا : ''کیا ان کے گھر والوں میں سے کوئی موجود ہے؟'' لوگو ں نے بتایا:'' ایک بوڑھی عورت ان کی خدمت کرتی ہے۔'' جب اس بوڑھی عورت کو بلایا گیا تو اس نے پوچھا:'' کس طرح ان کا انتقال ہوا؟'' ہم نے بتایا:'' ان کے سامنے قرآن کی ایک آیت پڑھی گئی جسے سنتے ہی ان کی روح پرواز کر گئی۔''

    اُس عورت نے پوچھا:'' تلاوت کس نے کی تھی ؟شاید! حضرت سیدنا صالح قاری علیہ رحمۃاللہ الباری نے تلاوت کی ہو گی۔'' ہم نے کہا:'' جی ہاں! تلاوت تو حضرت صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی نے کی ہے لیکن تم انہیں کس طر ح جانتی ہو ؟''کہنے لگی: ''میں انہیں جانتی تو نہیں مگر حضرت سیدنا ابو جہیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرے سامنے حضرت سیدنا صالح قاری علیہ رحمۃاللہ الباری نے تلاوت کی تو میں ان کی تلاوت سنتے ہی مرجاؤں گا ۔''

    پھر اس عورت نے کہا:'' خدا عزوجل کی قسم! حضرت صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (کی پردرد آواز)نے ہمارے حبیب کو قتل کرڈالا ۔'' یہ کہہ کر وہ عورت رونے لگی۔ پھرہم سب نے مل کرحضرت سیدنا ابو جہیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تجہیز وتکفین کی۔ 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
Flag Counter