{۲}میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
(۱۶ محرم الحرم ۱۴۳۳ھ۔بمطابق12-12-2011)
یا الٰہی! دُعا ہے گدا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
جلوۂ سرورِ انبیا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
سبز گنبد کی مہکی فضا کی دیدِ دربارِ خیرالورٰی کی
باغِ طیبہ کی ٹھنڈی ہوا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
بھیک دے الفتِ مصطَفٰے کی سب صَحابہ کی آلِ عَبا۱؎ کی
غوث و خواجہ کی احمد رضا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
کوئی حج کاسبب اب بنا دے مجھ کو کعبے کاجلوہ دکھادے
دیدِ عَرَفات و دیدِ مِنیٰ کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
دے مدینے کی مجھ کو گدائی ہو عطا دو جہاں کی بھلائی
ہے صدا عاجِز و بے نَوا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
حاضِری کی جسے بھی تڑپ ہے سبز گنبد کا دیدار کر لے
اُس کو طیبہ کی مہکی فَضا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
عازمِ راہِ بغداد کر دے جلوۂ غوث سے شاد کر دے
مجھ کو دیدارِ کرب و بلا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
ہر دم ابلیس پیچھے لگا ہے حفظِ ایمان کی التِجا ہے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ سیِّدُنا علی، سیّدتنا بی بی فاطِمہ، سیِّدُنا امام حسن اور سیِّدُنا امام حسین علیہم الرّضوان کو’’ آ لِ عَبا ‘‘ کہتے ہیں۔