تیرے ڈر سے سدا تھر تھراؤں خوف سے تیرے آنسو بہاؤں
کیف ایسا دے، ایسی ادا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
مکرِ شیطان سے تو بچانا ساتھ ایماں کے مجھ کو اٹھانا
نَزع میں دیدِ بدرُ الدُّجیٰ کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
پھر عرب کی حسیں وادیاں ہوں کاش! مکّے کی شادابیاں ہوں
مجھ کو دیدارِ ثور و حِرا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
دیدے پردہ بہو بیٹیوں کو ماؤں بہنوں سبھی عورَتوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
اب تک اولادسے جو ہیں محروم اُن کی بھر گود اے ربِّ قَیُّوم
سب کو رحمت کی اپنی عطاکی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
جگمگاتی رہے قبرِ عطّارؔ ربِّ حنّان و منّان و غفّار !
تا ابد فَضل و رَحم و عطا کی میرے مولیٰ تو خیرات دیدے