Brailvi Books

نور والا آیا ہے
24 - 24
جس نے لگایا زور سے یا غوث کا نعرہ
 وہ دشمنوں پہ چھا گیا بغداد والے  مرشد
وہ بِالیقیں ہے بامقدَّر کہ جسے جلوہ
	تُو خواب میں دِکھلا گیا بغداد والے مرشد
شیطاں سے ایماں ہو گیا محفوظ جو تیرے
ہے’’ سلسلے‘‘ میں آ گیا بغداد والے  مرشد
کیوں ڈر مُریدوں کو ہو نَزع و قبرو محشر کا
تو ’’لا تَخَف‘‘ فرما گیا بغداد والے  مرشد
جلوہ دکھا دیجے مجھے کَلمِہ پڑھا دیجے
اب وقتِ رِحلَت آ گیا بغداد والے مرشد
اے کاش! پھر آ کر کہے دربار میں عطّارؔ
بغداد میں پھر آ گیا بغداد والے  مرشد