یا علیَّ المرتَضٰی مولٰی علی مشکل کُشا
(یہ کلام ۸ ربیع الغوث۱۴۳۲ھ کو موزوں کیا)
یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا
آپ ہیں شیرِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا
صاحِبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکلکُشا
ہیں شہیدِ با وفا مولیٰ علی مشکلکُشا
علم کا میں شہر ہوں دروازہ اِس کا ہیں علی
ہے یہ قَولِ مصطَفٰے ۱؎ مولیٰ علی مشکلکُشا
جس کسی کا میں ہوں مولیٰ اُس کے مولیٰ ہیں علی
ہے یہ قولِ مصطَفٰے ۲؎ مولیٰ علی مشکلکُشا
پیکرِ خوفِ خدا اے عاشقِ خیرُ الورٰی
تم سے راضی کبریامولیٰ علی مشکلکُشا
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد ینہ
۱؎ اَنَا مدِینَۃُ الْعِلْمِ وعَلِیٌّ بَابُہا۔ یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۱۱ص۵۵حدیث۱۱۰۶۱) ۲؎ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔یعنی جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں۔( تِرمِذی ج۵ ص۳۹۸ حدیث۳۷۳۳)