Brailvi Books

نور والا آیا ہے
19 - 24
یا علیَّ المرتَضٰی مولٰی علی مشکل کُشا
(یہ کلام ۸ ربیع الغوث۱۴۳۲ھ کو موزوں کیا)
یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا 
آپ ہیں شیرِ خدا مولیٰ علی مشکلکُشا 
		صاحِبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکلکُشا
		ہیں شہیدِ با وفا مولیٰ علی مشکلکُشا
علم کا میں شہر ہوں دروازہ اِس کا ہیں  علی
ہے یہ قَولِ مصطَفٰے ۱؎ مولیٰ علی مشکلکُشا
			جس کسی کا میں  ہوں مولیٰ  اُس کے مولیٰ ہیں علی
	ہے یہ قولِ مصطَفٰے ۲؎ مولیٰ علی مشکلکُشا
پیکرِ خوفِ خدا  اے عاشقِ خیرُ الورٰی
تم سے راضی کبریامولیٰ علی مشکلکُشا  
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد ینہ                       
   ۱؎  اَنَا مدِینَۃُ الْعِلْمِ وعَلِیٌّ بَابُہا۔ یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔        (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۱۱ص۵۵حدیث۱۱۰۶۱) ۲؎  مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔یعنی جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں۔( تِرمِذی ج۵ ص۳۹۸ حدیث۳۷۳۳)