Brailvi Books

نور والا آیا ہے
18 - 24
کب مدینے میں حاضِری ہو گی			جانے کب میرا کام ہوتا ہے
یا نبی یہ غلام کب حاضِر	بہرِ عرضِ سلام ہوتا ہے
جو مدینے کے غم میں روئے وہ	حشر میں شاد کام ہوتا ہے
جو دُرُود و سلام پڑھتے ہیں	اُن پہ رب کا سلام  ہوتا ہے
کیا دبے دُشمنوں سے وہ حامی	جس کا خیرُ الانام ہوتا ہے
اُس کی دُنیا میں آزمائِش ہے	جو یہاں نیک نام ہوتا ہے
جو ہو اللہ    کا ولی اُس کا	فیض دنیا میں عام ہوتا ہے
جی لگانے کی جا نہیں دنیا	کس کو حاصِل دَوام  ہوتا ہے
دارِفانی میں خوش رہے کیسے!	جس کامُردوںمیں نام ہوتا ہے
موت  ایماں پہ آتی ہے جس پر	فضلِ ربُّ الانام ہوتا ہے
قبر روشن اُسی کی ہو جس پر	فضلِ ربُّ الانام ہوتا ہے
بے حساب بخشِش اُس کی ہوجس پر	فضلِ ربُّ الاَنام ہوتا ہے
بختور ہے مدینے میں جس کی	عُمر کا اختتام ہوتا ہے
جس سے وہ خوش ہوںحشرمیں حاصل	اُس کو کوثر کا جام ہوتا ہے
دیکھو عطارؔ کب مِرا طیبہ
جانے والوں میں نام ہوتا ہے