| نور والا آیا ہے |
جب روزِ قیامت ہو شہا میل پہ سُورج کوثر کا چھلکتا مجھے اِک جام پلانا ہو عرصۂ محشر میں مِرا چاک نہ پردہ لِلّٰہ مجھے دامنِ رَحمت میں چُھپانا مَحشر میں حساب آہ!میں دے ہی نہ سکوں گا رَحمت نہ ہوئی ہوگا جہنَّم میں ٹھکانا فرمائیں گے جس وَقت غلاموںکی شفاعت میں بھی ہوں غلام آپ کا مجھ کو نہ بُھلانا فرما کے شَفاعت مِری اے شافِعِ محشر! دوزخ سے بچا کر مجھے جنت میں بسانا یا شاہِ مدینہ! مہِ رَمَضان کا صَدقہ جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا اللہ کی رَحمت سے یہ مایوس نہیں ہے ہو جائیگا عطّارؔ کی بخشش کا بہانہ