Brailvi Books

نور والا آیا ہے
15 - 24
سرکار! مجھے نَزع میں مت چھوڑنا تنہا
تم آکے  مجھے سورۂ یاسین سنانا
		جب گورِ غریباں کو چلے میرا جنازہ
		رَحمت کی رِدا اس پہ خدارا تم اُڑھانا
جب قبر میں اَحباب چلیں مجھ کو لِٹا کر
اے پیارے نبی گور کی وَحشت سے بچانا
		طے خیرسے تدفین کے ہوںسارے مَراحِل
	ہو قبر کا بھی لطف سے آسان دَبانا
جس  وَقت نکیرین کریں آ کے سُوالات
سرکار! تم آ کر کے جوابات سکھانا
	سُن رکھا ہے ہوتا ہے بڑا سخت اندھیرا
	تُربت میں مِری نُور کا فانوس جلانا
جب قبر کی تنہائی میں گھبرائے مِرا دل
دینے کو دِلاسہ شہِ والا ضَرور آنا